فلسطینی اتھارٹی کے صدر کی عرب لیگ میں حماس پر تنقید قابل افسوس ہے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی طرف سے عرب سربراہ کانفرنس کے دوران بحرینی دارالحکومت منامہ میں حماس پر تنقید کو قابل افسوس قرار دیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ان کے زیر قیادت اتھارٹی کو امریکہ نے مستقبل میں غزہ پر بھی حکومت کا اشارہ دے رکھا ہے تاہم اس کے لیے محمود عباس کو اپنے گورننس کے ماڈل کو بہتر کرنے اور اپنی ٹیم بدلنے کا بھی کہا تھا۔ جس پر وہ ان دنوں عمل کر رہے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی اور اس کے 87 سالہ صدر حماس کے سیاسی حریف ہیں کہ غزہ نے انہی کی جماعت کے خلاف غزہ کے پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنائی تھی، یہ سیایس رقابت ابھی بھی جاری ہے۔

2007 میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر چلے آ رہے محمود عباس نے اپنی فلسطینی کابینہ تبدل کر کے بہتری لانے کی کوشش کی ہے تاہم ان کا حماس کے بارے میں انداز پہلے سے بھی زیادہ تنقیدی ہو رہا ہے۔ اسی کا اظہار انہوں نے منامہ میں جاری عرب لیگ کی سربراہ کانفرنس میں کیا ۔

صدر عباس نے کہا اسرائیل پر حملے میں یکطرفہ انداز سے پہل کر کے حماس نے اسرائیل کو غزہ پر حملہ کرنے کا بہانہ دیا گیا۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا ہے کہ اسرائیل نے اب تک مغربی کنارے پر قبضہ کیوں جاری رکھا ہوا ہے اور آئے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو کس جواز اور بہانے کی وجہ سے قتل کرتی ہے۔

غزہ کے حکمران فلسطینی گروپ حماس نے 'صدر عباس کی عرب لیگ میں تقریر کے بعد کہا ہے ' ہم عرب لیگ کے اجلاس منعقدہ منامہ میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر کی جانب سے حماس پر تنقید پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ '

واضح رہے اسرائیل اب تک غزہ کی جنگ کے دوران 35 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے۔ ان ہلاک کیے گئے فلسطینیوں میں زیادہ تعداد فلسطینی بچوں اور خواتین کی ہے۔

حماس نے اظہار افسوس کے لیے جاری کردہ اپنے بیان میں عرب لیگ کے ارکان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ عرب ممالک اسرائیل کو غزہ پر جارحیت سے روکنے کے لیے کردادر ادا کریں ۔ عرب رہنماؤں نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے بحرین ان عرب ملکوں میں شامل ہے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے اور غزہ میں جنگ کے سات ماہ مکمل ہونے کے بعد ہونےوالے عرب لیگ کے اس اہم اجلاس کی میزبانی یہی بحرین ہی کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں