رئیسی کی وفات سے سپریم لیڈرکی جانشینی سمیت کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ایرانی صدر کی موت سے ایران کی حکومت یا سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی طرف سے طے شدہ ملک کی پالیسیوں میں فوری یا بنیادی تبدیلیوں کا امکان نہیں ہے لیکن تجزیہ کاروں نے ابراہیم رئیسی کو جو اتوار کو ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے کو 85 سالہ سپریم لیڈر کا ممکنہ اور متوقع جانشین قرار دیا۔ رئیسی کی وفات سے اب ممکنہ طور پر یہ عہدہ خامنہ ای کے بیٹے کے پاس جائے گا۔

یہ جانشینی اسلامی جمہوریہ کے لیے ایک ممکنہ قانونی بحران کا سبب بھی بن سکتی ہے جسے بادشاہت کے متبادل کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔

اگلے اقدامات کیا ہیں؟ ایرانی حکومت کیسے کام کرتی ہے؟

ایران میں صدر اور اراکین پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے براہ راست اور باقاعدہ عام انتخابات ہوتے ہیں لیکن سپریم لیڈر تمام بڑی پالیسیوں پر حتمی رائے رکھتا ہے۔ مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے طور پر کام کرتا ہے اور پاسداران انقلاب کو کنٹرول کرتا ہے۔ سپریم لیڈر 12 رکنی گارڈین کونسل میں سے نصف کا بھی صوابدیدی اختیارات سے مقرر کرتا ہے، جو ایک مذہبی ادارہ ہے۔ یہ ادارہ صدر اور ممبران پارلیمنٹ کے امیدواروں کی جانچ کرتا ہے۔

اصولی طور پرعلماء ایران کے نظام کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ اس کے اسلامی قانون کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے لیکن عملی طور پرسپریم لیڈر مسابقتی مفادات کو متوازن کرنے، اپنی ترجیحات کو آگے بڑھانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی بھی پارٹی اسلامی جمہوریہ اور اس کے قائدانہ کردار کو چیلنج نہ کرے اپنی مرضی کے فیصلوں کا مجاز ہے۔

رئیسی ایک سخت گیر شخص جسے خامنہ ای کے قریبی شاگردوں میں سے ایک سمجھا جاتا 2021 میں ایران کے صدر منتخب ہوئے جب گارڈین کونسل نے ان کے مقابلے میں کسی دوسرے نمایاں امیدوار پر پابندی عائد کر دی تھی۔ صدر کے انتخاب کے نتیجے میں ہونے والے انتخابات میں ٹرن آؤٹ اسلامی جمہوریہ کی تاریخ میں سب سے کم تھا۔ رئیسی کی موت کے بعد نائب صدر محمد مخبرجو ایک نسبتاً نامعلوم شخص ایرانی آئین کے مطابق ملک کے عبوری صدر بن گئے۔

50 دنوں کے اندر الیکشن کرایا جائے گا اور اس بیلٹ کا احتیاط سے انتظام کیا جائے گا جس کے نتیجے میں ایک ایسا صدر ہوگا جو جمود کو برقرار رکھے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کسی حد تک موجودہ حکمرانی کا نفاذ جاری رکھے گا۔ اندرونی ذرائع کے مطابق تہران یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔ پورے مشرق وسطیٰ میں وفادار گروہوں کی حمایت کرے گا اور مغرب کو "گہرے شکوک" کی نگاہ سے دیکھے گا۔

جانشینی کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

صدور آتے اور جاتے ہیں۔ کچھ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ اعتدال پسند ہوتے ہیں لیکن ہر کوئی حکمران حکومت کے ڈھانچے کے اندر کام کرتا ہے۔ ایران میں کوئی بڑی تبدیلی خامنہ ای کی موت کے بعد آنے کا امکان ہے، جب 1989 میں اسلامی جمہوریہ کے بانی خامنہ ای کے بعد دوسری مرتبہ نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کیا جائے گا۔

ماہرین کی 88 رکنی اسمبلی اگلے سپریم لیڈر کا انتخاب کرے گی۔ کونسل کے اراکین کا انتخاب ہر 8 سال بعد ان امیدواروں میں سے ہوتا ہے جن کے کاغذات کی جانچ گارڈین کونسل کرتی ہے۔ گذشتہ مارچ میں ہونے والے آخری انتخابات میں کونسل نے روحانی کو انتخاب لڑنے سے روک دیا تھا۔ جانشینی کے بارے میں کوئی بھی بحث یا متعلقہ سازشیں بند دروازوں کے پیچھے ہوتی ہیں، جس سے یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ اگلا صدر کون ہو گا۔

لیکن دو ایسے لوگ ہیں جن کے بارے میں تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ وہ خامنہ ای کے جانشین بن سکتے ہیں۔جن میں ایک رئیسی تھے جو اب زندہ نہیں رہے جب کہ دوسرے سپریم لیڈر کے بیٹے55 سالہ مجتبیٰ جو ایک شیعہ عالم ہیں اور کبھی کسی سرکاری عہدے پر نہیں رہے شامل تھے۔

اگر خامنہ ای کے بیٹے نے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھال لیا تو کیا ہوگا؟

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 1979ء کے انقلاب کے بعد سے اسلامی جمہوریہ کے رہ نماؤں نے اپنی حکومت کو "منفرد" کے طور پر پیش کیا ہے، جو نہ صرف "انحطاط پذیر" مغرب کی جمہوریتوں سے برتر ہے بلکہ مشرق وسطیٰ کی فوجی آمریتوں اور بادشاہتوں سے بھی برتر ہے۔

سپریم لیڈر سے ان کے بیٹے کو اقتدار کی منتقلی نہ صرف ایرانیوں میں غصے کو جنم دے سکتی ہےجو پہلے ہی ملاؤں کی حکمرانی پر تنقید کر رہے ہیں بلکہ وہ حکومت کے حامیوں کو بھی ناراض کر سکتے ہیں جو اس منتقلی کو "غیر اسلامی" سمجھتے ہیں۔

اسلامی حکمرانی کے نفاذ نے جو رئیسی کے دور میں سخت ہو گیا خواتین اور نوجوانوں کو بھی مزید بیگانگی کا تاثردیا۔ اسلامی جمہوریہ کو حالیہ برسوں میں عوامی مظاہروں کی کئی لہروں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں سے آخری 2022 میں مہسا امینی کی موت کے بعد سامنے آئی جسے پولیس نے مبینہ طور پر حجاب نہ پہننے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

رئیسی کی موت خامنہ ای کی موت کے بعد نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل کو "زیادہ مشکل" بنا سکتی ہے اور ملک میں مزید بدامنی کو جنم دے سکتی ہے۔

پیرکے روز ایرانی ٹیلی ویژن نے کہا کہ ایران میں حکومت کی تین شاخوں کے سربراہان نے ملک میں قبل از وقت صدارتی انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک تاریخ پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق شمال مغربی صوبہ آذربائیجان میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی کی ہلاکت کی تصدیق ہونے کے ایک دن سے بھی کم وقت کے بعد کیا گیا۔

ایرانی آئین کا آرٹیکل 131 بتاتا ہے کہ ملک میں صدارتی عہدہ خالی ہونے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے کیسے نمٹا جائے۔ اس آرٹیکل میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ جمہوریہ کے صدر کی موت کی صورت ،برطرفی، استعفے، دو ماہ سے زائد عرصے تک غیر حاضری یا بیماری، یا جمہوریہ کی صدارت کی مدت ختم ہونے اور کچھ رکاوٹوں یا اس طرح کے دیگر معاملات کے نتیجے میں نئے صدر کے انتخاب میں ناکامی کی صورت میں نائب صدر عبوری طور پر فرائض سنھبالنے کامجاز ہوگا۔

بغداد میں ایرانی سفارت خانے سے

ایران کے موجودہ پہلے نائب صدر محمد مخبر ہیں جنہیں رئیسی نے 2021 میں صدارت سنبھالنے کے بعد سے اس عہدے پر تعینات کیا تھا۔

آرٹیکل 131 اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ اسلامی شوریٰ کونسل کے صدر، جوڈیشل اتھارٹی کے سربراہ اور جمہوریہ کے پہلے نائب صدر پر مشتمل ایک باڈی کو جمہوریہ کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ضروری انتظامات کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔اس حوالے سے عبوری صدر کی مدت پچاس دن ہے۔

کیا رئیسی کے بعد ایران کی پالیسی کی سمت میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟

پولیٹیکو کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کو یہ توقع نہیں ہے کہ ایرانی صدر کی حادثے میں موت سے نئے سربراہ مملکت کے انتخاب سے بھی خطے میں حکومت یا تہران کی پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی۔

واشنگٹن دیکھ رہا ہے کہ ایران موجودہ بحران سے کیسے نمٹتا ہے اور سپریم لیڈر کے عہدے کے لیے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، جس کا وقت خامنہ ای کی صحت پر منحصرہےوہ مزید کتنا عرصہ اس کلیدی عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں۔

تاہم امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایران اپنے اندرونی مسائل میں الجھا رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں نہیں کر سکے گا۔ جس میں پراکسی قوتوں کی حمایت بھی شامل ہے جو بہت سے عرب ممالک کو غیر مستحکم کرتی ہیں"۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر اہلکار نے کہا کہ ’’میں کسی پالیسی میں تبدیلی پر شرط نہیں لگا رہا ہوں‘‘۔

پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کو توقع نہیں ہے کہ ایرانی صدر کے قتل سے حکومت یا سیاست میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں