رفح میں اپنی افواج کو بڑھا کر یرغمالیوں کو بازیاب کرائیں گے: اسرائیلی وزیر دفاع

غزہ کی پٹی میں 230 دنوں کے دوران 35800 فلسطینی شہید کردئیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی کے ساحل کا دورہ کرنے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے یرغمالیوں کی واپسی کے لیے حالات پیدا کرنے کے لیے کام کرتے ہوئے رفح میں اضافی فورسز کی تعیناتی کا انکشاف کیا۔ انہوں نے ’’ڈوورا‘‘ کشتی پر سوار ہونے کے بعد کہا کہ ہم زمین اور فضا میں اپنی افواج کو مضبوط کر رہے ہیں۔ فوج اپنے اہداف تک پہنچ کر حماس کو سخت دھچکا دے گی اور اسے اس کی فوجی صلاحیتوں سے محروم کر دے گی۔ یرغمالیوں کو ان کے گھروں کو واپس کرنے کے لیے ضروری حالات پیدا کریں گے۔

قبل ازیں اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کہا کہ فوج نے جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح میں اپنی کارروائیوں کو نئے علاقوں تک بڑھا دیا ہے اور فوج اب شہر کے مرکز کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اسرائیلی فورسز اس وقت برازیل کالونی اور شابورہ کالونی میں کام کر رہی ہیں جو رفح کے مرکز کے قریب ہیں۔

فوج نے ایک بیان میں کہا کہ جنگی کارروائیوں کے دوران اسے دھماکہ خیز مواد اور راکٹ لانچر ملے ہیں اور اس کی کارروائیوں میں کئی عسکریت پسند مارے گئے۔ رفح میں آپریشن کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی کے شمال اور مرکز میں بھی لڑائیاں زیادہ شدت سے جاری ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ہاگری نے اعلان کیا کہ فوج نے حالیہ دنوں میں بیت حانون کے علاقے میں عسکریت پسندوں کو ختم کرنے اور مسلح انفراسٹرکچر اور زیر زمین انفراسٹرکچر کو تلاش کرنے اور تباہ کرنے کے لیے سلسلہ وار ٹارگٹڈ چھاپے مارے ہیں۔

واضح رہے رفح حملے کے معاملے نے غزہ کی پٹی سے متصل مصر کی قیادت میں کئی مغربی اور عرب ملکوں میں غم و غصہ پیدا کردیا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی بھی غیر معمولی انداز میں بڑھ گئی ہے۔ تقریباً دو ہفتے قبل امریکی صدر نے اسی بنا پر اسلحے کی ایک کھیپ کو اسرائیل روانہ ہونے سے روک دیا تھا۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے رفح شہر پر حملے کو روکنے کی آخری کوشش میں گزشتہ ہفتے کے روز تل ابیب کا سفر کیا تھا۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے رفح آپریشن پر اصرار جاری رکھا اور کہا کہ رفح میں کارروائی ان کے ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ آپریشن مرحلہ وار کیا جائے گا اور اس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

دوسری طرف رفح شہر پر حملے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے انتباہات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ انروا نے حال ہی میں کہا ہے کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران رفح سے تقریباً 9 لاکھ فلسطینی نقل مکانی کر گئے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کی کئی ایجنسیاں پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں کہ پوری غزہ کی پٹی میں کوئی علاقہ محفوظ نہیں ہے۔ سات اکتوبر کے بعد 230 دنوں میں اسرائیلی فوج نے دہشتگردی کرتے ہوئے 35800 فلسطینیوں کو شہید اور 80011 کو زخمی کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں