عالمی عدالت انصاف کا اسرائیل کو رفح آپریشن فوری طور پر روکنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بین الاقوامی عدالت انصاف نے جمعہ کے روز ایک سماعت میں اسرائیل کو رفح میں تمام فوجی آپریشنز فوری طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سب سے اعلیٰ جوڈیشل باڈی 'بین الاقوامی عدالت انصاف' میں جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزام لگایا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ "اسرائیل کو رفح پر کسی بھی فوجی آپریشن یا کسی ایسے اقدام کو فوری طور پر روکنا ہوگا جس سے فلسطینی آبادی متاثر ہو۔"

بدترین انسانی صورتحال

عدالت نے مزید کہا کہ عدالت کی جانب سے احکامات کے باوجود رفح میں انسانی بحران کی صورتحال مزید گھمبیر ہوتی جارہی ہے۔

عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے میں اسرائیل کو غزہ میں جنگ کے حوالے سے عارضی ریلیف دینے کے احکامات دیے تھے۔

رفح کراسنگ کو کھول دیں

عدالت نے اپنے حکم میں اسرائیل کو ہدایت کی کہ رفح کراسنگ کو بہر صورت کھول دے اور امداد کے راستے کی ساری رکاوٹیں دور کردے۔

اس سے قبل غزہ میں موجود عینی شاہدوں اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے سمندر سے غزہ میں گولہ باری کی۔ نیز فضائیہ نے بھی بمباری ہے۔ سمندر جہاں امریکہ نے اسی ماہ سے اپنی نئی تعمیر شدہ بندر گاہ سے آپریشنز شروع کیے ہیں۔

عینی شاہدوں کے مطابق اس بمباری کے نتیجے میں بہت سے لوگ ہلاک یا زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں غزہ کے وسط اور شمال میں اسرائیلی فوج نے مختلف جگہوں پر کارروائیاں کیں۔

خیال رہے اسرائیل نے ماہ مئی کے آغاز سے رفح میں زمینی حملہ شروع کیا ہوا ہے۔ رفح غزہ کا آخری شہر ہے ۔ اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق اسرائیلی حملے کے بعد سے آٹھ لاکھ فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

تاہم اسرائیلی فوجی ترجمان ڈینئیل ہگاری کا کہنا ہے کہ ہم رفح میں تباہی نہیں کر رہے بلکہ بہت احتیاط کے ساتھ اور بہت نپے تلے انداز میں آپریشن کر رہے ہیں۔

جمعہ کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے 'فوج دیشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مراکز کو نشانہ بنا رہی ہے۔

مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ اسرائیلی فوج رفح کے مشرقی حصے سے باقی شہر کے وسط میں کارروائیوں کے کیے آگے بڑھ رہی ہے۔

شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں 31 سالہ محمود الشریف نے کہا اب سوائے دھماکوں ، بمباری اور فائرنگ کی گھن گرج کے کچھ سنائی نہیں دیتا۔

مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ جمعہ کے روز ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے سے بھی گولہ باری کی گئی ہے۔اس گولہ باری کا ٹارگیٹ پناہ گزیںوں کا کیمپ رہا۔ تاہم دوسری جانب ہیگ سے بین الاقوامی عدالت انصاف سے امکان کے کہ کوئی بڑا حکم بھی جاری ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں