اسرائیل کا سپین کو یکم جون سے فلسطینیوں کے لیے قونصلر خدمات بند کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا کہ میڈرڈ کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر اس نے یروشلم میں ہسپانوی قونصل خانے سے کہا ہے کہ وہ یکم جون سے فلسطینیوں کو قونصلر خدمات فراہم کرنا بند کر دے۔

وزارت نے کہا کہ یروشلم میں سپین کا قونصل خانہ "صرف یروشلم کے قونصلر ضلع کے رہائشیوں کو قونصلر خدمات فراہم کرنے کا مجاز ہے اور فلسطینی اتھارٹی کے رہائشیوں کو خدمات فراہم کرنے یا قونصلر سرگرمی انجام دینے کا مجاز نہیں ہے۔"

وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ہدایت یکم جون سے نافذ العمل ہو گی۔

وزیرِ خارجہ اسرائیل کاٹز نے ایک الگ بیان میں کہا کہ "ہسپانوی حکومت کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد آج میں نے یروشلم میں ہسپانوی قونصل خانے کے خلاف ابتدائی تعزیری اقدامات نافذ کیے ہیں۔"

نیز انہوں نے کہا، "ہم اسرائیل کی خودمختاری اور سلامتی کو نقصان پہنچنا برداشت نہیں کریں گے۔"

سپین ان یورپی ممالک میں سے ایک ہے جو غزہ کی جنگ پر اسرائیل پر سب سے زیادہ تنقید کرتا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے اسپین، آئرلینڈ اور ناروے نے 28 مئی بروز منگل سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا جس پر انہیں اسرائیل کی طرف سے سخت سرزنش کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں