"آپ کی سلامتی خطرے میں ہے": موساد کی ’آئی سی سی‘ کی پراسیکیوٹر کو دھمکی کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے حالیہ دنوں میں خبردار کیا تھا کہ وہ عدالتی اہلکاروں کوان کے کام سے روکنے، دھمکانے یا نامناسب طور پر اثر انداز ہونے کی کسی بھی کوشش کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس حوالے سے ایک نیا اور چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ اسرائیلی جاسوس ادارے ’موساد‘ کے موساد نے ’آئی سی سی‘ کی سابق پراسیکیوٹر فاتو بین سودا کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔

یہ کہانی 2021ء میں شروع ہونے والی تحقیقات سے شروع ہوئی اور گذشتہ ہفتے اس وقت اختتام پذیر ہوئی جب بینسودا کے جانشین کریم خان نے اعلان کیا کہ وہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کے مطابق ’موساد‘ کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے فوجداری عدالت کی سابق پراسیکیوٹر کو کئی خفیہ ملاقاتوں میں دھمکیاں دیں تاکہ ان پر اسرائیل پر مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات ترک کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے

خفیہ رابطے

بینسودا کے ساتھ کوہن کی خفیہ بات چیت ان کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کے فیصلے سے پہلے کے برسوں میں ہوئی تھی۔

ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے انکشاف کیا کہ کوہن ذاتی طور پر فوجداری عدالت کے خلاف آپریشن میں شامل تھے جب وہ موساد کے ڈائریکٹر تھے، کیونکہ ان کی سرگرمیوں کو اس بنیاد پر جواز بنایا گیا تھا کیونکہ عدالت سے فوجی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا خطرہ لاحق ہے۔

دریں اثنا بینسودا کے خلاف آپریشن سے واقف ایک اور اسرائیلی ذریعے نے کہا کہ موساد کا مقصد پراسیکیوٹر کو خطرے میں ڈالنا یا اسے اسرائیل کے مطالبات کے ساتھ تعاون کرنے والے شخص کے طور پر بھرتی کرنا ہے۔

آپریشن سے واقف ایک تیسرے ذریعے نے اطلاع دی کہ کوہن نے اس آپریشن میں نیتن یاہو کے"غیر سرکاری پیغام رساں" کے طور پر کام کیا۔

دریں اثنا چار ذرائع نے تصدیق کی کہ بینسودا نے فوجداری عدالت کے سینیئر اہلکاروں کے ایک چھوٹے سے گروپ کو کوہن کی جانب سے اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

ان میں سے تین ذرائع اس معاملے پر بینسودا کے ’آئی سی سی‘ کو دیے گئے سرکاری بیانات سے واقف تھے۔

"اپنی سلامتی کو خطرے میں مت ڈالو"

معلومات سے پتا چلتا ہے کہ یوسی کوہن نے متعدد مواقع پران پر دباؤ ڈالا کہ وہ فلسطین کے معاملے پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سامنے مجرمانہ تحقیقات کو آگے نہ بڑھائیں۔

فوجداری عدالت کے حکام کے ساتھ شیئر کیے گئے اکاؤنٹس کے مطابق کوہن نے مبینہ طور پر ان سے کہا کہ "آپ کو ہماری مدد کرنی چاہیے اور ہمیں آپ کا خیال رکھنا چاہیے۔ آپ کو ان چیزوں میں ملوث نہیں ہونا چاہیے جو آپ کی سلامتی یا آپ کے خاندان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیں"۔

یوسی کوہن کی سرگرمیوں سے واقف ایک شخص نے وضاحت کی کہ اس نے بینسودا کے خلاف "قابل نفرت حربے" استعمال کیے جو اسے ڈرانے اور اثر انداز کرنے کی بالآخر ناکام کوشش قرار دیے جا سکتے ہیں‘‘۔

انہوں نے اس کے رویے کو "بھگوڑے" سے تشبیہ دی۔

صورت حال سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ موساد نے بینسودا کے خاندان کے افراد میں گہری دلچسپی لی اور اس کے شوہر کی خفیہ ریکارڈنگز کی کاپیاں حاصل کیں۔

اس کے بعد اسرائیلی حکام نے ان مواد کو استغاثہ کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔

ایک غیر متوقع اتحادی

بینسودا پر اثر انداز ہونے کی موساد کی کوششوں میں اسرائیل کو ایک غیر متوقع اتحادی کی حمایت ملی۔ یہ اتحادی افریقی ملک کانگو کے سابق صدر جوزف کبیلا تھے جنہوں نے اس سازش میں معاون کا کردار ادا کیا۔

قابل ذکر ہے کہ کوہن جو اس وقت نیتن یاہو کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہیں اوراسرائیل میں اپنے طور پر ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے لگے ہیں نے ذاتی طور پر عدالت کو کمزور کرنے کے لیے تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری مہم میں موساد کی شرکت کی قیادت کی۔

قانونی ماہرین اور ’آئی سی سی‘ کے سابق عہدیداروں کے مطابق موساد کی بینسودا کو دھمکی دینے یا دباؤ ڈالنے کی کوششیں روم معاہدےکے آرٹیکل 70 کے تحت انصاف کی انتظامیہ کے خلاف جرائم کے مترادف ہو سکتی ہیں۔

جبکہ فوجداری عدالت کے ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا کریم خان نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ ان کے پیشرو نے کوہن کے ساتھ اپنی بات چیت کے بارے میں کیا انکشاف کیا تھا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ خان نے موساد کے سربراہ سے ملاقات یا بات نہیں کی۔

جب کہ ایک ترجمان نے مخصوص الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ خان کے دفتر کو "کئی قسم کی دھمکیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جنہیں ان کی سرگرمیوں کو غیر ضروری طور پر متاثر کرنے کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے"۔

قابل ذکر ہے کہ کوہن کے آپریشن کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات گارڈین اخبار اسرائیلی-فلسطینی میگزین +972، اور عبرانی زبان کے میگزین لوکل کال کی جانب سے کی جانے والی آئندہ تحقیقات کا حصہ ہیں، جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ تقریباً ایک دہائی تک بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کس طرح خفیہ کارروائیاں کیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں