جوبائیڈن کی جنگ بندی پیشکش اور اسرائیلی فوج کی ٹینکوں اور توپ خانے سے گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر رفح میں ٹینکوں اور توپ خانے سے ہفتہ کے روز شدید گولہ باری کی ہے۔ اتفاق سے اسرائیل کی یہ گولہ باری صدر جوبائیڈن کے اس اعلان کے محض چند گھنٹے بعد کی گئی جس میں صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ اسرائیل مکمل جنگ بندی کے لیے ایک نئے 'روڈ میپ' کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے اور حماس کو بھی اسرائیلی پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

جوبائیڈن کے اس اعلان کے فوری بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ ان کا ملک حماس کی تباہی کے اپنے اہداف تک اپنی جنگ جاری رکھے گا اور اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

دریں اثناء فلسطینی مزاحمتی گروپ نے کہا تھا کہ وہ صدر جوبائیڈن کی طرف سے سامنے لائے گئے اس 'روڈ میپ' کو مثبت طریقے سے زیر غور لانے کو تیار ہے۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد اسرائیل نے رفح پر گولہ باری کر کے ماحول کو دوبارہ کشیدہ کر دیا۔

اپنے پہلے بڑے خطاب کے دوران صدر جوبائیڈن نے اسرائیل اور حماس کے درمیان اس جنگ سے نکلنے کے لیے ایک ممکنہ خاکہ پیش کیا۔ صدر کے مطابق یہ ممکنہ خاکہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے پر چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی، جس میں اسرائیلی فورسز غزہ کے تمام گنجان آباد علاقوں سے نکل جائیں گی۔

اس دوران یرغمالیوں کی ایک تعداد کو رہائی ملے گی۔ جن میں خواتین، بوڑھے اور زخمی لوگ بطور خاص شامل ہوں گے۔ اس کے بدلے میں سینکڑؤں فلسطینیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہائی ملے گی۔

اس دوران اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان چھ ہفتوں میں ایک پایہ دار جنگ بندی کے لیے مکالمہ ہوگا۔ لیکن جب مذاکرات چل رہے ہوں گے تو جنگ بندی جاری رہے گی۔

صدر جوبائیڈن نے اپنی اس تقریر میں حماس پر بھی زور دیا کہ وہ اسرائیلی پیشکش کو قبول کرے۔ کیونکہ یہ موقع ہے کہ جنگ کو ختم کیا جائے اور ایک نیا دن شروع کیا جائے۔

خیال رہے جمعہ کی شام حماس کی طرف سے جواباً کہا گیا کہ صدر جوبائیڈن کی تقریر میں پیش کی گئی اس پیشکش کو ہم مثبت طریقے سے دیکھ رہے ہیں۔ تاکہ مستقل جنگ بندی ہو سکے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا ممکن ہو۔ غزہ کی تعمیر نو ہو سکے اور قیدیوں کا تبادلہ ہو سکے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اردن، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کو اسی طرح کی ایک ڈیل کے لیے رابطے میں کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے بھرپور امید کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ 'یہ تازہ ترین پیش رفت فریقین کے درمیان پائے دار امن کے قیام تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوگی۔' اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا یہ بیان ترجمان سٹیٓفن دوجارک نے جاری کیا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ انیلینا بیئر بارک نے کہا ہے کہ اسرائیلی پیشکش سے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے اور اس ڈیڈ لاک سے نکلنے کے لیے ایک آوٹ آف دی وار حل نکل کر سامنے آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان دیرلیین نے بھی اس پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ یہ بڑی متوازن اور حقیقیت پسندانہ پیشکش ہے اور یہ خون ریزی کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔

لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جوبائیڈن کے پیش کیے گئے اس 'روڈ میپ' کے بارے میں اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عبوری ہے اور مشروط ہے اور اسرائیل کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے جنگی عزائم کو جاری رکھ سکے۔

تاہم انہوں نے مذاکراتی ٹیم کو اجازت دی کہ وہ اس پر آگے بڑھنے کے لیے ایک خاکہ بنائیں کہ یرغمالی گھر واپس آسکیں اور زور دے کر کہا کہ جب تک یرغمالی گھر نہیں اتے اور اسرائیلی اہداف پورے نہیں ہوتے جنگ جاری رہے گی۔

ان اہداف کا ذکر کرتے ہوئے ان کے دفتر نے کہا 'یرغمالیوں کی رہائی کے علاوہ حماس کی عسکری قوت کو ختم کرنا اور اس کی حکومتی صلاحیت اور مشینری کا خاتمہ ہے۔'

واضح رہے اسرائیل 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد سے مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے فلسطینی عسکری گروپ حماس کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔

ہفتہ کے روز اسرائیلی ٹینکوں نے تل السلطان میں مغربی رفح کے پڑوس میں گولہ باری کی۔ جبکہ مشرقی و وسطی وفح میں لوگوں نے اسرائیلی توپ خانے کو گولے برساتے دیکھا۔

رات کے ابتدائی گھنٹوں میں یہ گولہ باری شروع ہوئی جو ہفتے کی صبح شروع ہونے تک جاری رہی۔ بتایا گیا ہے کہ کسی ایک لمحے کے لیے بھی اس دوران یہ گولہ باری روکی نہیں گئی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے عینی شاہدوں کی مدد سے یہ رپورٹ کیا ہے۔

رفح کے علاقے تل السلطان میں اسرائیلی فوج کے سنائپرز بھی مختلف عمارتوں پر موجود رہے اور اپنے توپ خانے اور ٹینکوں کی حفاظت کے لیے چوکس رہے۔ تاکہ جہاں بھی کوئی شک گزرے اسے نشانہ بنا سکیں۔

غزہ شہر میں بھی اسرائیلی فوج نے بمباری کی ہے۔ 'اے ایف پی' کے ایک رپورٹر کے مطابق شمالی غزہ میں بھی بمباری دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم ابھی تک اندازہ نہیں ہے کہ اس گولہ باری کے نتیجے میں کتنے فلسطینی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے غزہ میں خوراک اور امدادی اشیاء کی ترسیل بھی عملاً روک رکھی ہے۔ اقوام متحدہ اس بارے میں کہہ چکا ہے کہ 7 مئی کے بعد غزہ میں خوراک اور امدادی سامان کی ترسیل دو تہائی کم ہو چکی ہے۔

عالمی پروگرام برائے خوراک نئے بھی کہا ہے کہ مئی کے شروع سے صورتحال زیادہ دگرگوں ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک 36284 فلسطینی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی جمعہ کے روز یہی بات کہی ہے کہ امریکی کوششوں کے باوجود خوراک کی صورتحال زیادہ خراب ہو چکی ہے۔ تاہم اسرائیل ان حقائق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور کہہ رہا ہے کہ حالات میں بہتری ہے اور وہ خوراک یا امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا نہیں کر رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں