اردن کے مسئلہ فلسطین میں ایک اہم فریق اور فلسطین سے جڑے ملک اردن نے ہنگامی بنیادوں پر اعلان کیا ہے کہ 11 جون کو وہ غزہ جنگ کی صورت حال کے بارے میں انسانی ہمدردی کی ایک ہنگامی سربراہی ابین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔
اردن اس سے پہلے بھی غزہ جنگ کے حوالے سے کافی متحرک رہا ہے، شاہ اردن نے کم از کم دو بار امریکہ کا دورہ کیا ہے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ بلنکن و دیگر حکام کئی بار اردن آچکے ہیں۔ تاہم اب اردن نے مصر اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر ہنگامی سربراہی کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس مجوزہ کانفرنس میں ڈونر ملکوں اور اداروں کو بطور خاص شرکت کے لیے کہا جائے گا۔ توقع ہے کئی حکومتوں کے سربراہان بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
اردن کی طرف سے جاری کیے گئے ایک شاہی بیان میں کہا کہ مجوزہ کانفرنس غزہ کی پٹی میں انسانی تباہی پر بین الاقوامی برادری کے مضبوط ردعمل کے طریقوں کی نشاندہی کرنا چاہے گی۔'
'نیز یہ غزہ کے لیے آپریشنل اور لاجسٹک ضروریات کو بھی پورا کرنے کی تدابیر کرے گا۔ علاوہ ازیں غزہ میں بحران کے لیے مربوط اجتماعی ردعمل پر زور دے گا۔'
شاہی بیان میں مزید کہا گیا ہے 'غزہ میں جنگ اور قحط، بڑے پیمانے پر تکلیف ، صدمے اور تباہی کا باعث بنا ہے۔ خوراک، پانی، پناہ گاہ یا ادویات تک کی فراہمی کے انتہائی فقدان کی وجہ سے پوری آباد شدید مصائب سے دوچار ہے۔'