غزہ جہاں بچوں کا بھوک اور قحط سے بچنا غیر ممکن، 80 فیصد بچے کھانے سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں یہ تقریباً اب ہر ماں کی کہانی ہے جس کا بچہ شیر خوارگی کی عمر میں ہے اور اس کے لیے مشکل تر ہے کہ بچے کے لیے دودھ کیسے فراہم ہو۔ غزہ کی آبادی کی اکثر ماؤں کی کہانی چند ایک کی زبانی سنتے ہیں۔

بس یہ خیال رہے کہ یہ اس غزہ کی کہانی ہے جس کے حوالے سے جنوری 2024 میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کوارڈی نیشن 'اوچھا ' کی رپورٹ میں کہا گیا تھا 'غزہ میں کیے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 93400 کم سن بچوں میں 7280 بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

جبکہ دو روز قبل ہفتے کے روز عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر تین دنوں میں ایک دن ایسا شامل ہوتا ہے جس دن غزہ کے 80 فیصد بچے کھانے سے محروم رہتے ہیں۔ تو آئیے ان حالات کا شکار ماؤں سے ملتے ہیں اور ان کے بچوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

غزہ کے الاقصیٰ ہسپتال میں یوسف نامی شیر خوار بچے کی 33 سالہ فلسطینی ماں اس بچے کے ساتھ موجود ہیں۔ وہ کہہ رہی ہیں ان کے یوسف کو دودھ اور علاج دونوں چیزوں کی اشد ضرورت ہے مگر اسے دونوں دستیاب نہیں ہیں۔ وہ اپنے یوسف کو خوراک کی کمی کے مسئلے سے دوچار ہونے کے بعد ہی ہسپتال لائی تھیں۔ مگر حالات ہسپتال میں بھی پناہ گزین فلسطینی خیمے والے ہیں۔

شیر خوار یوسف کی ماں کہتی ہیں 'میں اسے اپنا دودھ پلانے کی کوشش کرتی ہوں مگر دودھ نہیں ہے۔ پھر میں گندم کے آٹے سے کچھ بنا کر کھلانا چاہتی ہوں مگر یہ اس کی جسم کی برداشت کی خوراک نہیں اس لیے یہ پھول جاتا ہے۔ '

یوسف کی ماں یہ بتا رہی تھیں اور اس کے سامنے یوسف ہسپتال کے تنگ سے بستر پر لاغر اور کمزور سی حالت پر پڑا تھا۔ اسے کے جسم کو بہتر اور لگاتار خوراک کی ضرورت ہے، ادویات کی ضرورت ہے۔

مگر غزہ کی تو یہ حالت ہے کہ اسرائیلی فوج نے اب تک 36439 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ پچھلے کئی ماہ سے غزہ کی مسلسل ناکہ بندی جاری رکھنے کے بعد اب راہداریوں کو بھی مکمل اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کا ادارہ پچھلے کئی ماہ سے کہہ رہا ہے کہ غزہ میں قحط سامنے کھڑا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 32 فلسطینی شہری خوراک نہ ملنے کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

یوسف کے بعد ایک اور شیر خوار جس کا نام والدین نے سیف رکھا ہے۔ اسے بھی ہسپتال لایا گیا ہے۔ خوراک نہ ملنے کی وجہ سے اس کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔ اس کی ماں اسے بہت پرامید ہو کر ہسپتال لائی تھی۔ لیکن یہاں ہسپتال کی حالت دیکھ کر وہ کہہ رہی ہیں کہ 'میں نہیں سمجھتی کہ میں اور میرا بچہ ہسپتال میں ملنے والی خوراک پر کتنے دن زندہ رہ سکتے ہیں۔'

نوحا الخالدی سیف کی والدہ ہیں۔ جو ہڈیوں اور جلد کے مسائل کا شکار ہیں۔ ان کے لیے یہ تکلیف سہنا مشکل ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ انہیں آپریشن سے گزرنا پڑے گا لیکن یہ آپریشن ملتوی ہو چکا ہے۔

ہسپتال میں ماہر امراض بچگان ڈاکٹر حازم مصطفیٰ نے کہا 'رفح راہداری کی بندش سے خوراک اور ادویات کی صورتحال اور زیادہ بگڑ گئی ہے۔'

خیال رہے اسرائیل نے رفح پر سات مئی کو زمینی حملہ شروع کرتے ہی رفح راہداری کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ تب سے اس راہداری سے خوراک اور انسانی بنیادوں پر آنے والی دوسری امداد کا سلسلہ بری طرح متاثر ہے۔

ڈاکٹر حازم مصطفیٰ نے کہا نہ بچوں کو دودھ مل رہا ہے اور نہ ماؤں کو دودھ مل رہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلا سکیں جو کہ ماؤں کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں