غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کے پاس سمندر کے راستے پانی تک پہنچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
8 ماہ کی خونریز جنگ، بے مثال تباہی اور غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ محاصرے کے بعد خاندانوں کے پاس پانی کی تلاش میں سمندر کا سہارا لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔مگر سمندر کا پانی کھارا اور نمکین ہونے کی وجہ سے ناقابل استعمال ہے۔
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’اونروا‘نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں بے گھر ہونے والے بہت سے خاندان اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سمندری پانی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
صاف پانی نہیں
’اونروا‘نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ صاف پانی تک رسائی پورےغزہ سیکٹرمیں لاکھوں لوگوں کی صحت اور بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔
اس نے وضاحت کی کہ زیادہ درجہ حرارت اور کم سطح کی حفظان صحت نے صحت کی صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔
گذشتہ جمعرات کو’اونروا‘ نے خبردار کیا تھا کہ صاف پانی تک محدود رسائی اور مسلسل بلند درجہ حرارت کی وجہ سے میں غزہ میں ہیضے کی وبا پھیلنے کے حقیقی خدشات موجود ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ غزہ میں نافذ کردہ اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے کئی مہینوں سے پٹی میں داخل ہونے والی انسانی اور غذائی امداد کی کمی سے غزہ میں حالات زندگی شدید خراب ہو چکے ہیں۔
-
اسرائیل نے فلاڈیلفیا محور پر مکمل کنٹرول کرلیا، غزہ مصر سے الگ ہوگیا
جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی اور مصر کو الگ کرنے والے فلاڈیلفیا کے محور ...
بين الاقوامى -
غزہ: واٹر پمپنگ سٹیشن پر بمباری، نصیرات کے میئر قتل
وسطی غزہ کے شہر نصیرات کے میئر کو اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے قتل کر دیا۔ نصیرات ...
مشرق وسطی -
غزہ سے اسرائیلی فوج نے چار یرغمالیوں کو رہا کرا لیا، 115 فلسطینی جاں بحق
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز یہ اعلان کیا ہے کہ چار یرغمالیوں کو غزہ سے زندہ رہا ...
مشرق وسطی