یحییٰ السنوار کے پیغامات میں فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کو کم تر سمجھا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں امید کم ہونے کے بعد پٹی میں حماس کے فوجی کمانڈر یحییٰ السنوار کی طرف سے ثالثوں کو بھیجے گئے پیغامات میں دعویٰ کیا گیا کہ زیادہ لڑائی اور فلسطینی شہریوں کی زیادہ ہلاکتیں حماس کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔

حماس کے حکام کو بھیجا گیا السنوار سے منسوب ایک حالیہ خط منظر عام پر آیا تھا۔ خط میں قطری اور مصری حکام کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ ہمارے پاس اسرائیلی ہیں اسی جگہ ہیں جہاں ہم انہیں چاہتے ہیں۔

شہریوں کی زندگیوں پر سرد مہری

وال سٹریٹ جرنل کی طرف سے نظرثانی شدہ درجنوں ایسے خطوط ہیں جو سنوار نے مذاکرات کاروں اور غزہ سے باہر حماس کے رہنماؤں کو پہنچائے ہیں۔ ان خطوط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سنوار نے شہریوں کی زندگیوں کے حوالے سے حقارت اور سرد مہری کا مظاہرہ کیا ہے۔

حماس کے رہنما، مرکز میں اسماعیل ہنیہ، تصویر کے بائیں جانب یحییٰ السنوار (رائٹرز)
حماس کے رہنما، مرکز میں اسماعیل ہنیہ، تصویر کے بائیں جانب یحییٰ السنوار (رائٹرز)

انہوں نے پیغامات میں یہ بھی کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اسرائیل کو حماس کے مقابلے میں جنگ سے زیادہ نقصان اٹھانا ہے۔ یاد رہے یہ پیغامات یحییٰ السنوار کے بارے میں مختلف خیالات رکھنے والے کئی لوگوں نے شیئر کیے ہیں۔

قربانیاں ضروری ہیں

دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کے نام ایک خط میں غزہ کی پٹی میں حماس کے رہنما السنوار نے الجزائر جیسی ملکوں میں قومی آزادی کی جدوجہد میں شہریوں کی تعداد کی طرف اشارہ کیا جہاں فرانس سے آزادی کے لیے لڑتے ہوئے لاکھوں لوگ مارے گئے تھے۔ السنوار نے ساتھ کہا کہ "یہ ضروری قربانیاں ہیں۔ "

یحییٰ السنور (آرکائیو - ایسوسی ایٹڈ پریس)
یحییٰ السنور (آرکائیو - ایسوسی ایٹڈ پریس)

اسی طرح 11 اپریل کو لکھے گئے اسماعیل ھنیہ کے نام ایک خط میں اسرائیلی فضائی حملے میں ان کے تین بیٹوں کی ہلاکت کے بعد یحییٰ السنوار نے لکھا کہ ان کی موت اور دیگر فلسطینیوں کی اموات اس قوم کی رگوں میں جان ڈال دیں گی اور فلسطینیوں کو ایک اعلی سطح تک بڑھنے کی جانب لے جائیں گی۔

خیال رہے اسرائیل کی طرف سے مارنے کی متعدد کوششوں کے باوجود السنوار زندہ بچتے آرہے ہیں اور انہوں نے حماس کی عسکری کارروائیوں کو درست طریقے سے منظم کر رکھا ہے۔ انہوں نے پیغامات کا مسودہ تیار کر کے جنگ بندی کے مذاکرات کاروں کو بھیجا اور اس بات کا تعین کیا کہ تحریک کب شدت اختیار کرے گی۔ کب حملہ کیا جائے گا اور کب دستبردار ہوا جائے گا۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ یحییٰ السنوار کا حتمی مقصد ایک مستقل جنگ بندی تک پہنچنا ہے جو حماس کو اسرائیل کے خلاف مضبوطی سے کھڑا کرے اور فلسطینی قومی مقصد کی قیادت کا مطالبہ کرتے ہوئے تاریخی فتح کا اعلان کرنے کی اجازت دے دے۔

غزہ میں 37 ہزار سے زیادہ اموات

یحییٰ السنوار نے فلسطینی آزادی کی تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی جو بالآخر 1980 کی دہائی میں حماس بن گئی۔ وہ حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کے قریب ہو گئے اور 1988 میں اسرائیلی تفتیش کاروں کے سامنے ان کے اعترافی بیانات کے مطابق انہوں نے داخلی سکیورٹی پولیس قائم کی جس نے مشتبہ مخبروں کا شکار کیا اور انہیں ہلاک کیا۔

انہیں قتل کے الزام میں کئی عمر قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں اور 2011 میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے لیے ایک ہزار دیگر فلسطینیوں کے ساتھ تبادلہ کے معاہدے میں رہا ہونے سے قبل 22 سال جیل میں گزارے۔ واضح رہے غزہ میں جنگ کے آغاز سے اب تک 37 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں