غزہ کی پٹی میں نو ماہ سے جاری اسرائیلی جنگ کی روشنی میں یورپی یونین نے اپنے انتباہات کی تجدید کی کہ یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے عہدیدار جوزپ بوریل نے مزید کہا ہے کہ غزہ جنگ کے طول پکڑنے کا امکان ہے۔ مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خطرناک اور بین الاقوامی قانون کا تکلیف دہ امتحان بھی ہے۔
انہوں نے منگل کے روز ’’العربیہ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ اسرائیل مغربی کنارے کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور ایک علاقے کے دوسرے سے الحاق کرنے منصوبے پر منظم طریقے سے کام کر رہا ہےجوزپ بوريل مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ وہاں پر امن نہیں لائے گا بلکہ اس کے برعکس اثرات پیدا کرے گا۔
جنگ بندی کے مراحل
انہوں نے زور دیا کہ غزہ کو ملبے کا میدان بننے اور ایک اور صومالیہ میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یورپی یونین کے ممالک تباہ حال فلسطینی سیکٹر میں جنگ کو روکنے اور دو ریاستی حل پر عمل درآمد کی طرف بڑھنے کے لیے عرب شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین جنگ بندی کے حصول اور دو ریاستی حل کو لاگو کرنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تین اوورلیپنگ مراحل میں کام کر رہی ہے۔ پہلا مرحلہ غزہ میں جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور امداد کے داخلے سے شروع ہوتا ہے۔ بوریل کے مطابق دوسرے مرحلے میں فلسطینی اتھارٹی کا غزہ میں سیکورٹی کو یقینی بنانے اور پٹی میں فلسطینیوں کو کم سے کم خدمات فراہم کرنے کو شامل کیا گیا ہے۔
بوریل نے حالیہ عرصے میں غزہ میں جنگ کے خطرناک حد تک پھیلنے کے امکان کے بارے میں بارہا خبردار کیا تھا۔ انہوں نے مغربی کنارے میں گرفتاریوں اور چھاپوں میں اضافے سے بھی خبردار کیا تھا۔ سات اکتوبر کے بعد سے مغربی کنارے میں دہائیوں کی بدترین بدامنی دیکھی گئی ہے۔ مغربی کنارے میں 133 بچوں سمیت 528 فلسطینی اسرائیلی سکیورٹی فورسز یا یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ اس دوران فلسطینیوں کے گھروں اور زرعی زمینوں پر بھی آباد کاروں نے بار بار حملے کئے ہیں۔