جوہری ایران

ایرانی جوہری پروگرام کی نگرانی کے لیے اسرائیل کے نئے ورکنگ گروپ تشکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

تین سینیر اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ دو ہفتے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایرانی جوہری پروگرام پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے اسرائیلی دفاعی اسٹیبلشمنٹ، وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے ارکان پر مشتمل ورکنگ گروپس کی دوبارہ تشکیل کی ہے۔

اسرائیلی اور امریکی حکام کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کو تشویش ہے کہ ایران امریکی صدارتی انتخابات سے چند ہفتے قبل اپنی جوہری ٹیکنالوجی بشمول جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرے گا۔

اسرائیلی اور امریکی حکام نے کہا ہے کہ امریکی رہ نماؤں کی توجہ انتخابی مہم اور غزہ میں جاری بحران کے درمیان تقسیم ہو سکتی ہے۔ امریکہ کو اس عرصے کے دوران کسی بھی ایرانی جوہری پیش رفت کا فوری جواب دینا مشکل ہو سکتا ہے۔

عہدیداروں نے مزید کہا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ ایرانی رہ نما امریکہ میں انتخابات کے بعد کی منتقلی کی مدت کو جوہری ہتھیاروں کی طرف "پیشرفت" کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس برادری کا اب بھی یہ ماننا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی سرگرمی سے کوشش نہیں کر رہا ہے، لیکن اس نے اشتعال انگیز جوہری اقدامات کیے ہیں "اور ان کا جواب نہیں دیا جائے گا"۔

ایکسیس نے گذشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ حالیہ مہینوں میں اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس سروسز نے نئی معلومات کا جائزہ لیا ہے جس سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق سرگرمیاں کر رہا ہے۔

سینیر اسرائیلی حکام نے کہا کہ اسرائیل کو تشویش ہے کہ ایرانی سائنسدانوں کے کمپیوٹر ماڈلز اور دیگر سائنسی تجربات جوہری ہتھیاروں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اسے ایران کو ایٹم بم حاصل کرنے کے لیے ٹائم ٹیبل کو مختصر کرنے کی مہلت مل سکتی ہے۔

اسرائیلی حکام اور ایک سینیر امریکی اہلکار نے بتایا کہ اس ہفتے واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کی وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان، وزیرخارجہ انٹونی بلنکن اور سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران ایرانی جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی اہلکار نے کہاکہ "ہم دن میں 24 گھنٹے، ہفتے کے 7 دن کام کرتے ہیں۔ ہم ہر وقت اس معاملے پر اسرائیل سے مشورہ کرتے ہیں۔ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ بائیڈن انتظامیہ یقینی بنائے گی کہ ایسا ہی ہے"۔

نیتن یاہو کے سابق قومی سلامتی کے مشیر یاکوف ناگل جو اب فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینئر فیلو ہیں اور نیتن یاہو کے بہت قریب رہتے ہیں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ مہینوں میں درجنوں ایرانی سائنس دان جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار تکنیکی عمل پر کام کر رہے ہیں۔

ایکسیس کو بتایا کہ یہ سرگرمی "اکیڈمک چھتری کے نیچے" ہو رہی ہے اور ایسے تجربات کے "دائرہ کار کو آگے بڑھا رہی ہے" جن کے شہری استعمال ہو سکتے ہیں۔

ناگل نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ خامنہ ای نے اس سرگرمی کو واضح طور پر اور سرکاری طور پر منظور نہیں کیا۔

سینیر اسرائیلی حکام نے کہا کہ نیتن یاہو کی جانب سے قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنگبی کو ٹیموں کی تشکیل نو کی ہدایت تقریباً ڈیڑھ سال کے عرصے کے بعد دی گئی ہے۔ اس عرصے میں ورکنگ گروپس منجمد رہے ہیں۔

صورتحال سے واقف دو سابق اسرائیلی عہدیداروں نے کہا کہ نیتن یاہو نے دسمبر 2022ء میں اپنے عہدے پر واپسی کے بعد سے ایرانی جوہری مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں نمٹا ہے۔ پہلے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ عدالتی اصلاحات میں مصروف تھے اور بعد میں اس کی وجہ غزہ میں جاری جنگ ہے۔

حالیہ مہینوں میں جب ایرانی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں نئی انٹیلی جنس سامنے آئی ہیں۔ نیتن یاہو کے قریبی اسرائیلی دفاعی ادارے میں کچھ سابق سینیر عہدیداروں نے وزیر اعظم اور ان کی ٹیم سے تشویش کا اظہار کیا کہ اس معاملے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

ایک اسرائیلی ذریعے نے کہا کہ "حال ہی میں انہوں نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنا شروع کیا ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے۔"

نیتن یاہو کی ہدایات کی بنیاد پر چھ ورکنگ گروپ بنائے گئے تھے، جن کی ذمہ داری نیشنل سکیورٹی کونسل کے پاس تھی جو آپریشن کے انتظام اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بناتی تھی۔

موساد کی زیر قیادت ایک ٹیم ایرانی جوہری پروگرام اور خاص طور پر ممکنہ ہتھیار سازی کی سرگرمیوں کے مسئلے سے نمٹ رہی ہے۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ شین بیت کی قیادت میں ایک اور ٹیم اسرائیل کےاندر ایرانی اثر و رسوخ کی کارروائیوں کی نگرانی کی ذمہ دار ہے۔

دوسری ٹیمیں انٹیلی جنس اور سائبر کوآرڈینیشن اور خطے میں حزب اللہ، یمن میں حوثیوں اور عراق اور شام میں ملیشیاؤں کے ساتھ ایرانی سرگرمیوں سے نمٹتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں