اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینی ریاست کے خلاف کثرت رائے سے قرارداد منطور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی پارلیمنٹ کی اکثریت نے فلسطینی ریاست کے خلاف حکومتی قرار داد کی حمایت کر کے اسے منظور کر لیا ہے۔ قرار داد میں ایک آزاد ریاست کے قیام کی فلسطینی ریاست کی باقاعدہ مخالفت کی گئی ہے۔ نیز قرار داد میں خبر دار کیا گیا ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست دہشت گردوں کا گڑھ ثابت ہو گی۔

اسرائیلی مقننہ جسے عرف عام میں ' کنیسٹ' کہا جاتا ہے نے قرار داد میں موقف اختیار کیا ہے کہ ایوان دریائے اردن کے مغرب میں فلسطینی ریاست کا مخالف ہے۔ اس قرار داد کو یروشلم میں ہونے والے 'کنیسٹ 'کے اجلاس میں جمعرات کی صبح منظور کیا گیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کے کل ارکان کی تعداد 120 ہے، تاہم ان میں سے 68 ارکان نے اس قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کی مخالفت کی ہے۔ یہ قرار داد حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کے حق میں تین چوتھائی ارکان نے ووٹوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

علاوہ ازیں پچھلے دو ماہ کے دوران چار یورپی ملکوں نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔ غزہ جنگ کے دنوں میں فلسطینیوں کی بلا شبہ ہزاروں عورتیں اور بچے قربان ہوئے ہیں لیکن اس دوران اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے ارکان کی سطح پر ہی نہیں عالمی برادری میں عالمی رائے عامہ میں فلسطین کاز کو بہت پزیرائی ملی ہے۔ بہت سے ملکوں نے اس دوران خطے میں امن کے لیے دوریاستی حل کو ہی بہترین راستہ قراردیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کی جمعرات کے روز فلسطینی ریاست کے خلاف منظور کی گئی قرارداد پارلیمنٹ کے اسی موقف کو زیادہ سختی سے پیش کرنے کی ایک شکل ہے جو رواں سال کے شروع میں اس ایوان نے ایک اور قرار داد کی صورت میں منظور کیا گیا تھا۔ سال کے شروع میں اس امر کے خلاف قرار داد منظور کی گئی تھی کہ یک طرفہ طور پر فلسطینی ریاست قائم کی جا سکتی ہے۔

اسرائیل کی مقننہ میں ایک سال کے دوران فلسطینی ریاست کے خلاف یہ دوسری اسرائیلی قرار داد ہے جسے منظور کیا گیا ہے۔

2009 میں نیتن یاہو نے جب تک فلسطینی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے اسرائیل ایک غیر فوجی اور اسلحے سے پاک فلسطینی ریاست کو قبول کرسکتا ہے۔ نیتن یاہو اگلے چند دنوں میں امریکی کانگریس سے خطاب کرنے امریکہ جا رہے ہیں۔ جہاں انہیں جوبائیڈن انتطامیہ سے دو ریاستی حل کے مطالبے کا سامنا کرنا ہوگا۔

کیونکہ امریکی انتظامیہ امریکہ کے اندر اور عالمی سطح پر ہی نہیں مشرق وسطیٰ میں بھی دو ریاستی حل کے لیے بڑھے ہوئے مطالبے کو توجہ دینا ضروری سمجھتی ہے تاکہ عرب ریاستوں کو بھی فلسطین اور اسرائیل کے بارے میں اپنے موقف کے ساتھ جوڑے رکھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں