دبئی کا بڑا ایئرپورٹ مسافروں کی آمد و رفت کے حوالے سے رواں سال کی پہلی ششماہی میں مصروف ترین ایئرپورٹس میں سے ایک رہا ہے۔ جسے بین الاقوامی مسافروں نے آمد و رفت کے لیے استعمال کیا ہے۔
پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال کی پہلی ششماہی میں مسافروں کی تعداد 8 فیصد بڑھ گئی ہے۔ جس میں پاکستانی مسافروں کی تعداد کا اضافہ بھی شامل ہے۔
حکام کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران 44.9 ملین مسافروں نے دبئی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی ہے یا یہاں سے روانگی پکڑی ہے۔
2019 کے دوران آنے والی کووڈ کی وبا کے بعد خطے میں کاروباری سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہے۔ جس وجہ سے دبئی ایئرپورٹ مصروف ترین ایئرپورٹس میں سے ایک ہو چکا ہے۔
حکام کے مطابق وہ توقع کر رہے ہیں کہ 91.8 ملین مسافروں کی سالانہ آمد و رفت کا پچھلا ریکارڈ آسانی سے توڑ لیں گے۔
ایئررپورٹ کے سی ای اور پال گرفتھس کا کہنا ہے 'کووڈ سے پہلے 2018 کا مسافروں کی سالانہ آمد و رفت کا ریکارڈ 89.1 ملین رہا۔ رواں سال دبئی کے حکمران شیخ محمد راشد بن المکتوم نے ایک نئے مسافر ٹرمینل کی منظوری دی ہے۔ جس کی لاگت 128 ارب درہم ہوگی۔ جو تقریباً 35 ارب ڈالر کے برابر ہے۔'
المکتوم ایئرپورٹ مسافروں کو سنبھالنے کی کیپیسٹی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ایئرپورٹ بن جائے گا۔ جہاں سے 260 ملین مسافر آسانی سے ہوائی سفر کے لیے استفادہ کر سکیں گے۔