ایران : سپریم کورٹ سے سزائے موت ختم ہونے کے بعد توماج صالحی پر نئے مقدمات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی شہری اور معروف گلوگار توماج صالحی کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ ماہ جون میں روکے جانے کے بعد ان کے وکیل کے مطابق ان کے خلاف نئے مقدمات بنا دیے گئے ہیں۔

33 سالہ صلاحی کو اکتوبر 2022 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب مہسا امینی کی پولیس کے زیر حراست ہلاکت کے باعث ملک بھر میں شروع ہونے والے احتجاج کے حق میں بولے تھے اور پولیس نے کچھ عرصے بعد ان کی گرفتاری کر لی تھی۔

واضح رہے 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس کے زیر حراست موت 16 ستمبر 2022 کو واقع ہوئی تھی۔ پولیس نے مہسا امینی پر الزام لگایا تھا کہ مہسا امینی نے سر پر حجاب لینے کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر حجاب کے باہر آئی ہے۔

پولیس کے زیر حراست ہوتے ہوئے چند گھنٹے بعد ہی اس کا انتقال ہوگیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اسے ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔

تاہم مہسا امینی کے حامی عناصر نے اس واقعے پر ملک گیر احتجاج شروع کر دیا۔ ان میں ایک صالحی بھی تھے۔ صالحی کو کرپشن کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔ لیکن بعد ازاں ایرانی سپریم کورٹ نے اس کی سزا کو ختم کر دیا۔

عدالت کی طرف سے سزا ختم کیے جانے کے بعد توماج صالحی کے خلاف نئے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ بدھ کے روز اصفہان کی ایک مقامی عدالت نے اس کے خلاف رکے ہوئے مقدمات کی سماعت کا آغاز کیا ہے۔

اس موقع پر توماج صالحی کے وکیل عامر رئیسان کا کہنا تھا ' عدالت کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ اس کے خلاف مقدمہ اس کے گانوں کی وجہ سے دائر کیا گیا ہے۔ '

تفتیش کاروں نے اس کے رہائی کے حکم جاری کرنے کے علاوہ ضمانت کا حکم نامہ بھی جاری کیا اور گرفتاری کا حکم نامہ بھی۔ بتایا گیا ہے کہ جب تک کیسز مکمل نہیں ہوتے رہائی نہیں ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں