اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی سے اندرونی انٹیلی جنس کے ساتھ مل کر کیے گئے آپریشن کے دوران 6 قیدیوں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں تاہم اس نے اس آپریشن کی زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں۔
السنوار نے رابطہ منقطع کر دیا
اسرائیلی فوجی انجینیروں کو خان یونس میں 650 فٹ لمبی سرنگ میں گہری کھدائی کرنے میں کئی گھنٹے لگے تاکہ وہ جسے تلاش کر رہے تھے اسے نکال سکیں۔
کھدائی کےدوران انہیں چار مردوں اور ایک خاتون کی لاشیں ملی تھیں، یہ سبھی اسرائیلی قیدی تھے جنہیں حماس نے سات اکتوبر کو حراست میں لیا تھا۔
ایسا اس وقت ہوتا ہے جب قیدیوں کی زندگی بچانے کی کارروائیاں انتہائی نایاب رہتی ہیں کیونکہ ان کے لیے مزید تفصیلی انٹیلی جنس کی ضرورت ہوتی ہے۔ درست معلومات نہ ملنے کے نتیجے میں بہت کچھ غلط ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق سات اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 1,200 افراد ہلاک اور 250 کے قریب قیدیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اب تک اسرائیل نے ان میں سے صرف 7 کو زندہ بچایا ہے۔
دریں اثناء اسرائیلی سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ اگر جلد بازیاب کرانے کے لیے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو مزید قیدی بھی لاشوں کی حالت میں واپس لوٹیں گے۔
فوجی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے ’حماس‘ کے بارے میں بھاری مقدار میں قیمتی ڈیٹا حاصل کیا،اس میں غزہ سے لیپ ٹاپ، موبائل فون اور دستاویزات شامل ہیں۔ ان کی جانچ کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔
امریکی مدد سے اسرائیل نے اپنی سگنل انٹیلی جنس کو مضبوط کیا۔ انسانی معلومات کا دائرکار بڑھا دیا۔
رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی کوششوں میں بہتری آئی ہے، کیونکہ غزہ میں زمینی کارروائی کے دوران پٹی کے اندر سے ملنے والے سیل فونز، کمپیوٹرز اور دستاویزات سے معلومات حاصل کی گئیں۔
تاہم اس بہتری کے باوجود اسرائیلی انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے عمل کو اب بھی چیلنجز کا سامنا ہے، کیونکہ حماس اب بھی انٹیلی جنس سگنلز کو جمع کرنے سے بچنے کے لیے درست مواصلاتی طریقوں پر عمل کرہی ہے۔
عرب ثالثوں کے مطابق حماس کا لیڈر یحییٰ السنوار صرف ایک ایلچی کے ذریعے بھیجے گئے خطوط کے ذریعے ہی بات چیت کرتا ہے۔حماس کو شبہ ہے کہ اس کی صفوں میں کوئی جاسوس موجود ہے جس کے بعد اس نے رابطہ منقطع کر دیا، خاص طور پر مارچ میں حماس کے عسکری کمانڈر مروان عیسیٰ کے قتل کے بعد اس نے رابطوں کا طریقہ کار تبدیل کردیا تھا۔
ایک اور رکاوٹ غزہ کی پٹی میں قیدیوں کا پھیلاؤ اور ان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ہے تاکہ ان کے محل وقوع کا تعین زیادہ مشکل ہو۔ ایک سابق اسرائیلی قیدی نے انکشاف کیا کہ اسے 51 دن زمین کے اوپر اور نیچے 13 مختلف مقامات پررکھا گیا۔
بالکل حزب اللہ کی طرح
شاید حماس کے طریقے لبنان میں اس کی سب سے نمایاں اتحادی حزب اللہ سے بہت مختلف نہیں ہیں۔
حماس رہ نماؤں کے حالیہ کئی قتل کے بعد پارٹی نے سیل فونز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جو میدان جنگ میں صارف کے مقام کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی جگہ رابطے کے پرانے ذرائع جیسے پیجرز اور میسنجر جو زبانی طور پر پیغامات پہنچاتے ہیں کا سہارا لیا جاتا ہے۔
ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ حزب اللہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں ایک پرائیویٹ ٹیریسٹریل کمیونیکیشن نیٹ ورک بھی استعمال کر رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح اعلان کیا تھا کہ غزہ کی پٹی سے اندرونی انٹیلی جنس کے ساتھ مل کر کیے گئے آپریشن کے دوران 6 قیدیوں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔
تاہم اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ نے اسے ایک ناکام آپریشن قرار دیتے ہوئے فوج پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہناہے کہ قیدیوں کو زندہ بچانے کے بجائے ان کی لاشیں واپس کرنا فوج کی ناکامی ہے۔
ان چھ اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں غزہ کے جنوبی شہر خان یونس کی ایک سرنگ سے نکالی گئیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان قیدیوں کی موت کے حالات کے بارے میں تحقیقات کررہی ہے۔