اسرائیلی فوج کے انجینئروں نے غزہ پٹی کے علاقے خان یونس میں 650 فٹ طویل ایک سرنگ کے اندر رات کے وقت کئی گھنٹوں کی کھدائی کی جس کے بعد انھیں چار مردوں اور ایک خاتون کی لاش مل گئی۔ یہ تمام افراد اسرائیلی یرغمالی تھے جنھیں سات اکتوبر کو حماس کے حملوں کے دوران میں اغوا کر لیا گیا تھا۔
اسرائیلی ذرائع نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ وہ کس طرح حماس کی حراست میں موجود اپنے لوگوں کو زندہ یا مردہ واپس لانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق کھدائی کی کارروائی میں شریک ایک اسرائیلی ریزرو فوجی نے بتایا کہ "اپنے دماغ سے وہ بُو نکالنا بہت مشکل ہے ۔۔۔ بالخصوص جب آپ جانتے ہوں کہ یہ انسان کی بُو ہے"۔
اسرائیلی فوج نے منگل کے روز بتایا کہ اس نے مجموعی طور پر 30 لاشیں نکالی ہیں۔
زندہ یرغمالیوں کو بچانے کی کارروائی کافی دشوار ہوتی ہے کیوں کہ اس کے لیے زیادہ تفصیلی انٹیلی جنس معلومات درکار ہوتی ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق گذشتہ برس سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملوں کے نتیجے میں 1200 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور تقریبا 250 کو یرغمالی بنا لیا گیا۔
ابھی تک اسرائیل سات یرغمالیوں کو زندہ بچانے میں کامیاب ہوا ہے۔ زیادہ تر سیکورٹی ذمے داران کے نزدیک بقیہ 105 افراد کو رہا کرانے کا واحد راستہ سرنگ کی کھدائی ہے۔ واضح رہے کہ یرغمال بنائے افراد میں سے بہت سے پہلے ہی مر چکے ہیں۔
اسرائیل نے مطلوبہ معلومات کے حصول کے لیے جدید ٹکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ضبط شدہ الکٹرونک آلات کے تجزیے اور گرفتار شدگان سے پوچھ گچھ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
حالیہ پیش رفت اسرائیل کی مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے تعاون کی بدولت سامنے آئی ہے۔ انھوں نے غزہ سے قبضے میں آنے والے لیپ ٹاپ آلات، موبائل فون اور دستاویزات سے حماس کی معلومات کا ذخیرہ نکالا۔
اس معلومات کی جانچ کے لیے اسرائیل نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔ علاوہ ازیں گرفتار فلسطینیوں سے اکٹھا کی گئی معلومات اور اسرائیلی فوج کو معلومات پیش کرنے والوں کی انٹیلی جنس نے ان کوششوں میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اسرائیل میں "شعاری تسيديک" طبی مرکز کے ڈائریکٹر جنرل لاؤفر میرین کے مطابق سات اکتوبر کے حملوں کے دو ہفتے بعد خفیہ انٹیلی جنس معلومات کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کو اس بات کے تعین کا ذمے دار بنایا گیا کہ آیا جن یرغمالیوں کے بارے میں معلومات ملی ہیں وہ زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔ حاصل شدہ شواہد کی بنیاد پر کمیٹی نے بتایا کہ 40 سے زیادہ یرغمالی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
اسرائیل کو امریکا کی جانب سے بھی مدد ملی جس نے جنگ شروع ہونے کے بعد کے دنوں میں غزہ میں ٹیلی فون کالوں میں رکاوٹ ڈالنے کا عمل بڑھا دیا تھا۔ امریکی انٹیلی جنس کے ایک ریٹائرڈ افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان معلومات نے یرغمالیوں کی جگہ کا تعین کرنے میں اسرائیل کی مدد کی۔
اسرائیل کو اس وقت درپیش سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ یرغمالیوں کو پوری غزہ پٹی میں تقسیم کیا ہوا ہے اور انھیں مسلسل منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کے سبب یرغمالیوں کے ٹھکانوں کا تعین مشکل ہو گیا ہے۔
رہائی پانے والی ایک اسرائیلی یرغمالی خاتون ایفیفا سیگل کے مطابق غزہ میں گزرے 51 روز کے دوران میں اسے 13 مختلف مقامات پر رکھا گیا۔
اگرچہ زندہ یرغمالیوں کو بچانا دشوار ہے تاہم قیدیوں کی لاشوں کی جگہ کا تعین کرنا بھی ایک پیچیدہ مہم شمار ہوتا ہے۔ بالخصوص جب کہ اکثر لاشوں کو بہت احتیاط سے روپوش کیا جاتا ہے۔
دسمبر 2023 میں غزہ کے شمال میں ایک سرنگ میں پڑی ہوئی کچرے کی تھیلیوں کے اندر سے دو یرغمالیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے میں پیش رفت کے باوجود اسرائیل ہر بار بچاؤ کی کارروائی پر عمل درآمد نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک یرغمالیوں کی واپسی کے لیے مذاکرات سب سے محفوظ راستہ ہے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کے ایک سابق ذمے دار نے وال اسٹریٹ جرنل اخبار کو بتایا کہ "زیاد تر یرغمالی معاہدے کے بغیر واپس نہیں آئیں گے ... یرغمالیوں، پہرے اور نکلنے کی جگہ کی تفصیلات جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے"۔