اسرائیل نے علاقائی جنگ بھڑکانے کے لیے ہمارے رکن کو قتل کیا: تحریک الفتح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطین کی تنظیم تحریک الفتح کے عسکری ونگ ’’ الاقصی شہدا بریگیڈز‘‘ کے رہنما خلیل المقدح کے قتل کے بعد تحریک کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیل تنازع کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ رام اللہ میں الفتح کے رکن توفیق الطیراوی نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل نے ایک وسیع علاقائی جنگ کو بھڑکانے کے لیے جنوبی لبنان کے شہر ’’ صیدا‘‘ پر فضائی حملہ کرکے خلیل المقدح کو شہید کردیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض افواج اس جنگ کو بھڑکانے کے لیے ہر جگہ فلسطینیوں کے خون کو ایندھن کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ دریں اثنا الاقصیٰ شہداء بریگیڈز نے اپنے رہنما کے قتل پر تعزیت کی اور بتایا کہ اسرائیلی طیارے نے انہیں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ’’ طوفان الاقصیٰ‘‘ کی لڑائی میں اپنی جنگی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔

اپنے بیان میں انہوں نے غزہ میں حماس کی کارروائیوں کی حمایت اور مدد کرنے میں خلیل المقدح کی تعریف کی۔ انہوں نے مغربی کنارے میں کئی سالوں سے مزاحمتی سیلز کی حمایت میں ان کے اہم کردار کی بھی تعریف کی۔

خلیل المقدح اور پاسداران انقلاب

دوسری طرف اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ خلیل المقدح رقم اور ہتھیار مغربی کنارے لے جا رہا ہے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ وہ ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ اسرائیلی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فلسطینی رہنما ایران سے ہتھیار لبنان میں حزب اللہ کو بھی منتقل کر رہے تھے۔

العربیہ ذرائع نے سب سے پہلے اس شخص کی شناخت ظاہر کی جس نے صیدا شہر میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ ’’ عین الحلوہ ‘‘ کے قریبی علاقے ’’ الفیلات‘‘ پر اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ظاہر کی۔ یاد رہے دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا قاتلانہ حملہ ہے جو صیدا پر کیا گیا ہے۔ 9 اگست کو اسرائیل نے حماس کے ایک اہلکار سامر الحاج کو نشانہ بنایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں