امارات:حسینہ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے بنگالیوں کی سزا معاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بنگلہ دیش میں چار سو کے قریب شہریوں کو حسینہ واجد حکومت کی طرف سے ہلاک کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والی بنگالی شہریوں کو امارات حکومت نے رہا کر دیا۔ انہیں ماہ اگست کے شروع میں امارات کی گلیوں اور سڑکوں پر مظاہرے کرنے پراس لیے گرفتار کیا گیا تھا کہ اس طرح کا احتجاج کرنا اور سڑکوں پر ٹریفک متاثر کرنا قابل سزا جرم ہے۔ اس لیے انہیں سزا سنا کرجیل بھیج دیا گیا تھا۔

تاہم اب تقریباً ایک ماہ بعد انہیں نئی بنگلہ دیشی حکومت کے آنے کے بعد انہیں عام معافی دیتے ہوئے اماراتی حکومت نے رہا کر دیا ہے۔ ان میں سے تین بنگالی شہریوں کو عمر قید جبکہ 53 کو دس سال قید اور ایک بنگالی کو گیارہ سال قید کی سزا دی گئی تھی۔

خلیجی ممالک میں سزا یافتگان کو اس فراخ دلی کے ساتھ معاف کرنے کی روایت ہے۔ محض چند ماہ قطری حکومت نے بھارتی بحری فوج کے کئی سابق افسروں کو قطر میں جاسوسی جیسی سرگرمی میں سزائے موت تک سنائے جانے کے بعد رہائی دے دی گئی تھی کہ مودی حکومت نے ان کے لیے قطر سے درخواست کی تھی۔ ان بنگالی شہریوں کا جرم بھارتی جاسوسوں کی نوعیت کا نہیں تھا۔

منگل کے روز اماراتی خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ ان بنگالیوں کی سزا منسوخ کر دیا گئی ہے اور انہیں واپس ان کے ملک ' ڈیپورٹ'کر دیا گیا ہے۔ ان کی سزائیں منسوخ کرنے کا فیصلہ امارات کے صدرکے حکم کے تحت کیا گیا ہے۔

صدر کے حکم کے بعد کے نتیجے میں اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد الشمسینے رہائی کے ضابطے کی کارروائی مکمل کر دی ہے۔ اٹارنی جنرل نے امارات میں رہنے والے سب لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی حکومتوں کے خلاف اگر احتجاج کریں اتو انہیں امارات کے قانون کے دائرے کے اندر ہی ایسا کرنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی پر مبنی احتجاج کی اجازت نہیں ہے۔

ان بنگالی سزا پانے والے شہریوں کے واپس اپنے ملک ڈی پورت ہونے سے پہلے ہی حسینہ واجد حکومت ختم ہو چکی ہے۔ حسینہ واجد عوامی احتجاج کے سبب بھاگ کر بھارت جا چکی ہیں اور ان کی جگہ ایک ماہر معیشت پروفیسر محمد یونس عبوری سربراہ کے طور پر حکومتی انتظام چلا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں