امریکی پابندیوں کے باعث ایران میں غربت تیزی سےبڑھنے لگی :رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایران پر امریکہ کی طرف سے عاید کی جانے والی اقتصادی پابندیوں میں اضافہ جاری ہے۔ان پابندیوں کےایران کی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ملک میں غربت کی سطح میں تیزی سے اضافےکی خبریں آ رہی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق تہران پر امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران میں غربت کی شرح 2015ء میں تقریباً 20 فیصد سے بڑھ کر ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں 30 فیصد تک پہنچ گئی۔

اصلاح پسند ذرائع ابلاغ کے قریب سمجھنے جانے والے اخبار "ہم میہن" کے مطابق گذشتہ دہائی کے دوران ان سخت اور وسیع اقتصادی پابندیوں نے ملک کے اقتصادی مسائل کو بڑھا دیا ہے، جس سے ایرانیوں کی اقتصادی اور معاشی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2015ء میں غربت کی شرح تقریباً 20 فیصد رہنے کے بعد ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں یہ بڑھ کر 30 فیصد ہو گئی ہے۔

ملازمت کے مواقع میں کمی

اس کے علاوہ پیداواری اکائیوں کو خام مال کی محفوظ فراہمی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدی منڈیوں تک رسائی جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جو بالآخر پیداوار میں کمی اور روزگار کے مواقع میں کمی کا باعث بنے۔

نوجوان، معاشرے کی اصل محرک کے طور پر سب سے زیادہ نقصان سے بھی دوچار ہوئے ہیں۔

لیکن اصلاح پسند اخبار کا خیال ہے کہ دنیا کے ساتھ تعمیری رابط غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، پیداوار اور برآمدات کو بڑھانے، اقتصادی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان جنہیں ایک طرف اصلاح پسندوں کی حمایت اور دوسری طرف سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی سرپرستی حاصل ہے نے گذشتہ ہفتے سرکاری ٹیلی ویژن کے ساتھ اپنے پہلے انٹرویو میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ 8 فیصد نمو حاصل کرنے کے لیے 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

دنیا سے تعلقات کو فروغ دینے پر زور

صدر مسعود پزشکیان نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے ٹیلی ویژن انٹرویو میں اپنے ملک کا صدر منتخب کرنے میں سپریم لیڈر کے کردار پر زور دیا تھا۔ انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں لانے اور دنیا اور بیرون ملک ایرانیوں کے ساتھ رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا بجلی اور بینکوں میں عدم توازن کے ساتھ آٹھ فیصد نمو حاصل کرنا ممکن نہیں۔

ایرانی صدر نے اپنے مکالمے جو ہفتے کی شام ایرانی ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا میں کہا کہ 8 فیصد نمو حاصل کرنے کے لیے 200 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ملک میں کل رقم 100 بلین ڈالر سے زیادہ نہیں ہے اس لیے ہمیں 100 بلین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

پزشکیان نے سپریم لیڈر کی منظوری کے بعد خودمختار ترقیاتی فنڈ سے رقم نکالنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے رقم کی وضاحت کیے بغیر کہا کہ ہم نے بقایا قرضوں کو حل کرنے کے لیے قومی ترقیاتی فنڈ سے کچھ فنڈز نکالنے کی اجازت مانگی۔ ہم کسانوں، اساتذہ ، نرسوں کے مسائل حل کرنے اور ادویات فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مسعود پزشکیان نے پہلے کہا تھا کہ بیرونی تعلقات استوار کیے بغیر 8 فیصد ترقی کا حصول ممکن نہیں۔

آٹھ فیصد کی اقتصادی ترقی حاصل کرنا چھٹے اور ساتویں ترقیاتی پروگراموں میں پیش کیے گئے اہداف میں سے ایک ہے۔ انتخابی مباحثوں میں بار بار اس کا حوالہ دیا جاتا رہا۔ تاہم عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق آنے والے برسوں میں ایران کی اقتصادی ترقی میں کمی آئے گی۔

عالمی بینک کے تخمینوں کے مطابق ایران کی جی ڈی پی میں گزشتہ سال 5 فیصد اضافہ ہوا تھا لیکن اس سال یہ گر کر 3.2 فیصد رہ جائے گی۔ 2026 میں یہ شرح 2.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ آخری بار ایران نے 8 فیصد سے زیادہ کی اقتصادی ترقی 2016میں کی تھی۔

اپنے ٹیلی ویژن انٹرویو میں مسعود پزیشکیان نے بجلی اور توانائی کے شعبے میں موجودہ عدم توازن کی طرف بھی اشارہ کیااور کہا کہ سب سے پہلے توانائی کے عدم توازن کو دور کیا جانا چاہیے کیونکہ بجلی یا بینکنگ میں عدم توازن کے ساتھ شرح نمو 8 فیصد تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں