اسرائیلی فوج نے منگل کے روز ایک وڈیو کلپ جاری کیا ہے جس میں غزہ کی پٹی میں واقع اُس سرنگ کو دکھایا گیا ہے جس کے اندر چند روز پہلے چھ قیدیوں کی لاشیں ملی تھیں۔
وڈیو میں ایک زیر زمین تنگ اور گہری راہ داری نظر آ رہی جس میں بیت الخلا اور ہوا کے گزر کا کوئی انتظام نہیں۔ وڈیو کلپ میں تاریک سرنگ کے فرش پر خون، اسلحے کی گولیاں اور شطرنج کا کھیل پڑا ہوا نظر آ رہا ہے۔ یہ سرنگ ایک فولادی دروازے کے ذریعے بند ہے۔
گذشتہ ماہ یہاں سے چھ قیدیوں کی لاشیں ملنے پر اسرائیل میں عوام کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اب اس نئے وڈیو کلپ کے جاری ہونے سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ بقیہ یرغمال افراد کی واپسی کی خاطر حماس کے ساتھ فائر بندی کے معاہدے تک پہنچیں
𝐄𝐗𝐂𝐋𝐔𝐒𝐈𝐕𝐄 𝐅𝐎𝐎𝐓𝐀𝐆𝐄: IDF Spokesperson, RAdm. Daniel Hagari, reveals the underground terrorist tunnel where Hersh, Eden, Carmel, Ori, Alex and Almog were held in brutal conditions and murdered by Hamas. pic.twitter.com/edlfi4lR8U
— Israel Defense Forces (@IDF) September 10, 2024
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہیگاری کے مطابق یہ وڈیو کلپ قیدیوں کے گھرانوں کو دکھایا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ "ان لوگوں کے لیے یہ دیکھنا بہت مشکل تھا کہ ان کے پیاروں نے کس طرح ان حالات میں وقت گزارا"۔
ہیگاری کے مطابق یہ سرنگ زمین کے نیچے 20 میٹر کی گہرائی میں واقع ہے۔ اس کی اونچائی 170 سینٹی میٹر سے کچھ کم اور چوڑائی 80 سینٹی میٹر کے قریب ہے۔ سرنگ میں ایک دہانہ موجود ہے جس کو مسلح عناصر باہر نکلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ دہانہ ایک گھر میں بچوں کے کمرے کے نیچے کھلتا ہے۔
ہیگاری نے بتایا کہ سرنگ کافی نیچی اور تنگ ہے۔ نمی کے سبب یہاں سانس لینا مشکل ہوتا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کو اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ قیدیوں اور ان کو یرغمال بنانے والے دو افراد نے اس سرنگ میں کئی روز گزارے۔
ترجمان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کو سرنگ کے اندر سے پیشاب کے لیے استعمال ہونے والی بوتلیں اور قضائے حاجت کے واسطے استعمال کے لیے ایک بالٹی ملی۔ علاوہ ازیں سرنگ میں گدے، کپڑے، بندوقیں، جریدے، گرینیڈز اور انرجی بار بھی ملیں۔
ہیگاری نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز سرنگوں کے کمپاؤنڈ سے فرار کی کوشش کرنے والے دو مسلح افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ یہ دونوں اس جگہ کے قریب مارے گئے جہاں سے یرغمالیوں کی لاشیں ملی تھیں۔ ترجمان نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ دونوں وہی افراد تھے جنھوں نے چھ یرغمالیوں کو قتل کیا۔ اس بات کی تحقیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔
حماس تنظیم نے گذشتہ برس سات اکتوبر کے حملے کے دوران میں 250 کے قریب افراد کو قیدی بنا لیا تھا۔ ان میں 100 سے زیادہ افراد کو نومبر میں مختصر فائر بندی کے دوران میں رہا کر دیا گیا تھا۔ اس کے مقابل اسرائیل نے اپنی قید میں موجود فلسطینیوں کو آزادی دی۔ اسرائیلی فوج اب تک آٹھ یرغمالیوں کو زندہ بچانے میں کامیاب ہو چکی ہے جب کہ دسمبر میں حماس کی قید سے فرار ہونے والے 3 یرغمالی غلطی سے ہلاک ہو گئے تھے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق 101 یرغمالی ابھی تک حماس کی قید میں ہیں جن میں 35 کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔