غزہ میں اسرائیلی بمباری میں ایک ہی روز ’انروا‘ کے چھ ملازمین ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’انروا‘ نے بدھ کی شام کہا ہے کہ وسطی غزہ کی پٹی کے علاقے نصیرات میں ایک سکول پر دو فضائی حملوں میں اس کے چھ ملازمین ہلاک ہو گئے۔

اس نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر پوسٹ کردہ بیان میں مزید کہا کہ "یہ ہمارے ملازمین میں کسی ایک واقعے میں سب سے زیادہ اموات ہیں جن میں ’انروا‘ شیلٹر کے ڈائریکٹر اور دیگر افراد بھی شامل ہیں جو بے گھر ہونے والوں کو مدد فراہم کر رہے تھے"

’انروا‘ نے مزید کہا کہ "اس سکول پر جنگ شروع ہونے کے بعد سے پانچ بار بمباری کی جا چکی ہے۔ یہ تقریباً 12,000 بے گھر افراد کی پناہ گاہ ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں"۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے چھ ملازمین کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔

بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں شہری دفاع نے اعلان کیا کہ بے گھر افراد کی رہائش گاہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے وہاں موجود مسلح افراد کو نشانہ بنایا۔

شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ میں الجاعونی سکول پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

حماس نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین ’انروا‘ سے منسلک اسکول پر بمباری کے وقت 5000 سے زیادہ بے گھر افراد رہائش پذیر تھے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے جنگی طیاروں نے وسطی غزہ کی پٹی میں الجاعونی سکول میں "حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اندر کام کرنے والے دہشت گردوں پر حملہ کیا تھا"۔

حالیہ مہینوں میں، غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والے متعدد سکولوں کو اسرائیلی بمباری میں بار بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل نےہر بار اعلان کیا کہ حماس کے عسکریت پسند وہاں چھپے ہوئے تھے اور وہ اسرائیلی فوج پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں،تاہم حماس نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں