اسرائیلی چینلز پر غزہ جنگ کی کوریج سے فلسطینی غائب
"ہماری توجہ سات اکتوبر کی ہولناکی پر ہے جس نے ہمیں متأثر کیا، فلسطینی کہانیوں پر نہیں": ایک رپورٹر کا بیان
سات اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کی فوجی مہم کا ملکی ٹی وی چینلز پر مسلسل احاطہ کیا گیا ہے جس میں صرف ایک قابلِ ذکر پہلو غائب ہے: بموں کے نیچے زندہ رہنے اور مرنے والے فلسطینی۔
پرائم ٹائم کے دوران ہر رات اسرائیلی ناظرین غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیوں کے بارے میں سنتے ہیں جس کا بڑا حصہ وحشیانہ اسرائیلی بمباری سے تباہ ہو چکا ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کے میڈیا کے ایک ماہرِ عمرانیات اور پروفیسر جیروم بورڈن نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ مہلک حملہ "اسرائیلی معاشرے کے لیے حیران کن تھا اور میڈیا نے اسرائیل کے مصائب اور صدمے کو پوری ترجیح دی جو اب بھی موجود ہے۔"
اسرائیل کے چار اہم نیوز چینل ہیں۔ عوامی نشریاتی ادارے کا مرکزی چینل 11؛ "سب سے زیادہ دیکھا جانے والا" چینل 12؛ حکومت پر "سب سے زیادہ تنقید کرنے والا" چینل 13 اور چینل 14 اسرائیل کا فاکس نیوز جو "وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے پروپیگنڈے کا ذریعہ ہے۔" میڈیا پر توجہ مرکوز کرنے والی ایک اسرائیلی نیوز ویب سائٹ "دی سیونتھ آئی" کے صحافی اورین پرسیکو نے اس بات کا خلاصہ بیان کیا۔
کئی گھنٹوں کی خبروں، طنز و مزاح اور ٹیلنٹ شوز کا تجزیہ کرنے کے بعد اس ماہ کے شروع میں "دی سیونتھ آئی" نے اپنا فیصلہ سنایا: "چینل 11 سے 14 تک اسرائیل میں میڈیا غزہ میں انسانی مصائب کی تصویر نہیں دکھاتا۔" ویب سائٹ نے کہا، ٹیلی ویژن کے ناظرین "ملبے کی، بمباری سے تباہ شدہ عمارات کی تصاویر دیکھتے ہیں لیکن وہاں کے لوگوں کی انفرادی کہانیاں نہیں۔"
بورڈن نے کہا، یہ امر بالکل بھی نیا نہیں کیونکہ سات اکتوبر سے پہلے ہی فلسطینی آوازوں کو "خاموش" کر دیا گیا تھا۔
پرسیکو نے کہا کہ اقوامِ متحدہ نے غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد تسلیم کیا ہے لیکن انہیں "اسرائیلی میڈیا استعمال نہیں کرتا"۔
انتہائی قدامت پسند چینل 14 کا معاملہ تو استثنائی ہے جس میں سکرین اور اس کی ویب سائٹ پر "40,000 دہشت گردوں کے خاتمے" کا ذکر ملتا ہے۔
اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں چینل 14 کے ایک صحافی ہالیل بٹن-روزن نے کہا، اس چینل کی خبروں کی کوریج "گذشتہ سال خوفناک قتلِ عام کرنے والے قبیح دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی اور ملک اور شہریوں کی محافظ افواج کی حمایت" پر مرکوز ہے۔
اسرائیلی فوج کہتی ہے کہ 27 اکتوبر کو زمینی کارروائی کے آغاز سے اب تک غزہ میں فوجی کارروائیوں کے دوران 348 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
سات اکتوبر سے مغربی کنارے میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ بورڈن نے بالخصوص وہاں کے دیہاتوں پر آباد کاروں کے حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، جب اسرائیلی ٹی وی چینلز فلسطینیوں کے لیے نشریات کے بعض حصے وقف کرتے ہیں تو ان کا "غیر ملکی میڈیا کے مقابلے میں ایک مختلف زاویہ ہوتا ہے"۔ انہوں نے کہا، "فوج فلسطینیوں کی حفاظت نہیں کر سکی" کہنے کی بجائے اسرائیلی صحافی اس بات کو یوں بیان کرتے ہیں کہ"فوج آباد کاروں کو روکنے میں ناکام رہی۔"
جائز تشدد؟
جولائی کے آخر میں جیل کی نگرانی کی ایک ویڈیو میڈیا پر لیک ہو گئی جس کے بعد ایک فلسطینی قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کے شبے میں اسرائیلی فوجیوں کو گرفتار کر کے فوجی پولیس نے تفتیش کی۔ اسرائیل کے اہم ترین فوجی حمایتی امریکہ نے اس وقت کہا تھا، "قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی اطلاعات خوفناک ہیں" اور مجرموں سے جواب طلبی کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم چینل 12 پر اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ آیا "دہشت گردوں" کو اذیت دینے حتیٰ کہ ان سے جنسی زیادتی کو "جائز" سمجھا جا سکتا ہے یا نہیں۔
تل ابیب میں چینل 12 کے نیوز روم کے اندر "سات اکتوبر سے پہلے اور اس کے بعد" والا ماحول تھا، یہ بات ایک مقبول رپورٹر نے کہی جس نے اپنا نام پوشیدہ رکھنا چاہا۔ انہوں نے کہا، "ہماری توجہ اس ہولناکی پر ہے جس نے ہمیں متأثر کیا، فلسطینی کہانیوں پر نہیں۔"
اے ایف پی سے گفتگو کرنے والے صحافیوں نے بتایا کہ انہیں جنگ کا کسی خاص طریقے سے احاطہ کرنے کے لیے ادارتی دباؤ کا سامنا نہیں تھا۔ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ غزہ کے شہری باشندوں کو ملنے والی توجہ کی کمی کی وضاحت اس طرح ہو سکتی ہے کہ سات اکتوبر سے ایک دیرینہ صدمہ جاری ہے اور بڑی تعداد میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینی ذرائع پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی میڈیا تھا جس نے فلسطینیوں کے حق میں واضح تعصب کے ساتھ جنگ کی غیر منصفانہ کوریج کی۔
تاہم اسرائیل کے میڈیا کا منظرنامہ یک رُخی نہیں ہے۔ بائیں طرف جھکاؤ رکھنے والا اسرائیلی روزنامہ ہارٹز اور آن لائن نیوز سائٹ +972 غزہ پر تحقیقات کرنے والے چند چینلز میں شامل ہیں۔ انہوں نے مثلاً اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے شہریوں پر مبینہ تشدد اور حملے کے اہداف کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا جائزہ لیا ہے۔
اگرچہ بورڈن نے نوٹ کیا کہ ان چینلز کے سامعین ملک میں "دانشورانہ بائیں بازو" کی "اقلیت" تک محدود ہیں۔