ایران نے رواں سال 29 اپریل کو اصفہان صوبے میں اسرائیل کے میزائل حملے کی تردید کی تھی۔ ایران کے اس وسطی علاقے میں جوہری تنصیبات بھی واقع ہیں۔ تہران نے اس وقت یہ اعلان کیا تھا کہ دھماکے کی آوازیں فضا میں اڑتے اجسام پر فائرنگ کے نتیجے میں سنی گئیں۔ تاہم ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر اور "بقيۃ الله" مرکز کے موجودہ کمانڈر میجر جنرل محمد علی جعفری نے چھ ماہ بعد کل منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے اصفہان میں ایرانی ٹھکانوں کو میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔
پاسداران انقلاب کے معاون کمانڈر عباس نیلفروشان کی تعزیتی سرگرمی کے موقع پر جعفری نے بتایا کہ "ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے اصفہان میں ایک اڈے پر کئی میزائل داغے"۔
عباس نیلفروشان ستمبر کے اواخر میں بیروت میں اسرائیلی بم باری میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے ساتھ مارا گیا تھا۔
ایرانی ویب سائٹوں پر جاری والی وڈیو کے حوالے سے جعفری نے کہا کہ "اسرائیل کیا کر سکتا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ حزب اللہ سے نمٹنے کے بعد وہ ایران کا رخ کریں گے، یہ کیا بات ہوئی ؟ لبنان اسرائیل کا پڑوسی ہے جس کے پاس فضائی دفاع کا انتظام بھی نہیں ہے، لبنان میں مزاحمت عوام کے ایک محدود مجموعے کے ساتھ مخصوص ہے جو حزب اللہ کے نام سے جانا جاتا ہے ... اسرائیل ایران تک قطعا نہیں پہنچ سکتا"۔
جعفری کے مطابق ایران پر حملے کے لیے اسرائیل کو امریکا سے ملنے والے جدید ترین طیاروں کو استعمال کرنا ہو گا اور بعض دیگر ممالک کی فضاؤں کے استعمال کی اجازت درکار ہو گی، جیسا کہ اس نے اپریل میں ایرانی حملے کے بعد اصفہان میں ایک اڈے پر کئی میزائل داغنے کی صورت میں کیا تھا"۔
رواں سال 29 اپریل کو نصف شب کے وقت ایران کے وسط میں اصفہان میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ چند گھنٹے بعد پاسداران انقلاب کی 'فارس' نیوز ایجنسی نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اصفہان کے شمال مشرق میں واقع شہر قہجاورستان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یہ شہر اصفہان ہوائی اڈے اور ایرانی فوج کے 8ویں فضائی اڈے کے قریب واقع ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی ہوائی اڈوں پر فضائی پروازوں کی آمد و رفت چند گھنٹوں کے لیے معطل کر دی گئی تھی۔
ایرانی نیوز ایجنسی 'تسنیم' نے 29 اپریل 2024 کو با خبر ذرائع کے حوالے سے اس بات کی تردید کی کہ اصفہان صوبے میں کسی ٹھکانے کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اسی دوران میں مقامی نیوز ایجنسیوں نے دھماکوں کی آوازوں کو اصفہان کے آسمان میں تین ڈرون طیاروں کی تباہی کے ساتھ مربوط کیا۔ روئٹرز ایجنسی نے ایک ایرانی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ کوئی میزائل حملہ نہیں ہوا۔