سعودی عرب کی فضائی حدود بین الاقوامی پروازوں کے لیے محفوظ راستہ
اسرائیلی فوج کی جانب سے ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے سلسلہ وار حملوں کے نتیجے میں خطے میں موجودہ کشیدگی کے تناظر میں مشہور فلائٹ ریڈار ویب سائٹ نےکہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بد بین الاقوامی ایئر لائنز ایران کے اوپر پروازوں کے گذرنے سے گریز کرتی ہیں۔ وہ ایران کی فضائی حدود استعمال نہیں کرتیں۔ اس وقت ان میں سے زیادہ تر کمپنیوں نے اپنی منزلوں تک پہنچنے کے لیے متبادل راستے کے طور پر سعودی عرب کی محفوظ فضائی حدود استعمال کرنا شروع کی ہیں۔ عراق اور ایران کی فضائی حدود میں ٹریفک بند ہونے کے بعد کئی ممالک کی پروازوں نے سعودی عرب کی فضائی حدود کو استعمال کیا ہے۔
"فلائٹ ریڈار" ویب سائٹ کےمطابق بین الاقوامی ایئر لائن کے طیاروں کی بڑی تعداد نے سعودی فضائی حدود سے پرواز کرنے کا فیصلہ کیا۔ تل ابیب اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی کے ماحول میں سعودی عرب کی فضا کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے زیادہ موزوں اور محفوظ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب میں ایئر نیویگیشن سسٹم میں جدید ترین نظام اور قابل ذکر بین الاقوامی معیارات ہیں جو ٹرانزٹ ٹریفک میں اضافے کے ساتھ ہم آہنگ رہیں گے۔
سعودی ایوی ایشن سسٹم نے ایوی ایشن سکیورٹی آڈیٹنگ کے معاملے میں 94.4 فیصد اسکورحاصل کیا ہے۔ مملکت کا سکیورٹی سسٹم ایوی ایشن سکیورٹی کے شعبے میں جی 20 ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ’ایاٹا‘ کی جانب سے جاری کردہ ایئر کنیکٹیویٹی انڈیکس میں 14 مقامات پر ترقی کی ہے۔یہی وجہ ہےکہ سعودی عرب کی فضائی سکیورٹی نے’ایوی ایشن سکیورٹی کمیٹی‘ ایکاؤ کی صدارت جیت لی ہے۔
خیال رہے کہ یہ پیش رفت اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظرمیں سامنے آئی ہے۔ اسرائیل نے آج ہفتے کی صبح ایران پر سوسے زائد طیاروں کے ساتھ بمباری کی ہے۔