عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ شمالی غزہ میں فلسطینی بچوں کو پولیو سے بچانے کے لیے مہم کا دوسرا مرحلہ ہفتے کے روز یعنی 2 نومبر سے شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ غزہ دنیا کا واحد علاقہ بن گیا ہے جہاں بچوں کی بموں سے مار جاری ہے اور ان کی جان لی جارہی ہے مگر اسی وقت انہیں پولیو کی بیماری سے بچانے کی مہم بھی جاری ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے اعلان کے مطابق غزہ کی پٹی پر پولیو مہم کے دوسرے مرحلے کا آغاز امکانی طور پر 2 نومبر سے ہوگا اور شمالی غزہ میں پولیو کے قطرے فلسطینی بچوں کو پلائے جائیں گے۔ غزہ میں پولیو کے ایک کیس کی نشاندہی 25 برسوں کے بعد ہونے پر یہ سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ پولیو مہم کے دوسرے مرحلے کے لیے مناسب وقفہ کیا جائے اور جس علاقے میں پولیو ٹیمیں گھومنا چاہیں وہاں بمباری روکی جائے۔ واضح رہے غزہ میں پولیو مہم کا پہلا مرحلہ یکم ستمبر سے شروع ہوا تھا۔ دوسرے مرحلے کا آغاز 23 اکتوبر سے ہونا تھا مگر یہ بوجوہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔
پچھلے جمعہ کے روز غزہ میں عالمی ادارے کے نمائندے نے کہا تھا کہ 452000 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے۔ جبکہ شمالی غزہ میں 119000 فلسطینی بچے ابھی ان قطروں سے محروم ہیں۔
-
'شدید بمباری' کے باعث غزہ میں پولیو کے قطرے پلانے کی مہم رک گئی: عالمی ادارۂ صحت
مہم کو انسانی وقفوں کی مدد سے سہولت فراہم کی جائے: عالمی ادارے کا مطالبہ
مشرق وسطی -
غزہ میں پولیو ویکسینیشن مہم کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے: ڈبلیو ایچ او
اگست میں ایک بچہ پولیو سے جزوی مفلوج ہو گیا تھا
مشرق وسطی -
غزہ : بچوں کے لیے پولیو ویکیسن کا پہلا مرحلہ مکمل
14 اکتوبر سے دوسرا مرحلہ شروع کرنے پراتفاق
مشرق وسطی