سعودی عرب کی اہم دریافت : بحیرہ احمر میں سمندری کچھوؤں کے گھونسلے تلاش کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

'سعودی جنرل آرگنائزیشن' نے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں سمندری کچھوؤں کے گھونسلے پائے جاتے ہیں۔ بحیرہ احمر میں مرجان کی چٹانوں کے درمیان سمندری کچھوؤں کے یہ گھونسلے کافی تعداد میں موجود ہیں۔

مرجان کی چٹانوں اور سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے لیے قائم 'سعودی جنرل آرگنائزیشن' نے یہ اعلان ہفتہ کے روز کیا ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' کے مطابق بحیرہ احمر میں مملکت کی جانب سے یہ دریافت ماحولیاتی تحفظ کے لیے سعودی عرب کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے اور مملکت کا عزم ہے کہ ان کے گھونسلوں کو نہ گزند پہنچائی جانی چاہیے اور نہ تباہ کیا جانا چاہیے تاکہ ان کی صحیح ماحول میں نشونما ہوسکے۔

سعودی ادارے کے 'سی ای او' خالد اصفہانی نے بتایا کہ 'فور سسٹرز جزائر' کو سمندری کچھوؤں کی مختلف انواع کے لیے محفوظ جگہ قرار دیا جاتا ہے۔

خالد اصفہانی نے مزید کہا 'بحیرہ احمر کچھوؤں کے لیے بہترین مسکن ہے۔ جہاں ان کی جان کو لاحق خطرات کے اثرات کم ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر سبز کچھوے اور ہاکس بل کچھوؤں کے لیے یہ بہترین جگہ ہے۔ اسی لیے کچھوؤں کی زندگی کے لیے ایسی جگہوں کی حفاظت یقینی بنانی چاہیے۔'

یاد رہے بحیرہ احمر یمن اور اسرائیل سے متصل ہے اور غزہ بھی قریب ہے۔ آج کل حوثیوں نے بحیرہ احمر کو غزہ کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کے لیے میزائل حملوں سے گرم کر رکھا ہے۔

بحیرہ احمر کے مار مار ، دہرب ، ملا اتو اور جادیر جزائر میں 2500 کچھوؤں کے گھونسلے ہیں۔

اصفہانی نے کہا کچھووں کے گھروں، گھونسلوں اور آبادیوں کا تحفظ ہماری اہم ترجیح ہے۔ کہ ان کی بقا سے خطے کی اہم شناخت بحیرہ احمر کی ماحولیاتی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔

سعودی عرب بحیرہ احمر کے ساحل پر موجود 180 سے زیادہ گھونسلوں کی حفاظت کے لیے انتظامی منصوبہ تیار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں