مغربی کنارا: فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ' انروا ' کے خاتمے کی پیش گوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مقبوضہ مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپ نور شمس میں مقیم فلسطینی پناہ گزین ان خبروں کے بعد کہ' اسرائیل نے 'انروا' پر پابندی عائد کر دی ہے' اپنے مستقل کے بارے میں مزید خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ ہفتے کے روز اسرائیلی فوج کی طرف سے ' انروا' کے دفتر پر حملے نے انہیں اور بھی پریشان کر دیا۔

مغربی کنارے کے شمالی شہر طولکرم میں قائم نور شمس پناہ گزین کیمپ یہاں کے 13000 فلسطینیوں کے لیے ' انروا' ریلیف کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ جسے اسرائیلی فوج نے اب پارلیمانی منظوری کے بعد حتمی طور پر نشانے پر لے لیا ہے۔

نور شمس کیمپ میں 'انروا ' نے پناہ گزین بچوں کے لیے دو سکول قائم کر رکھے ہیں۔ جبکہ دو ہسپتال ان پناہ گزینوں کی خدمت کے لیے مامور ہیں۔ علاوہ ازیں پناہ گزین کیمپ میں صفائی کی ذمہ داری بھی خود اٹھائے ہوئے ہے۔

ہفتے کے روز ' انروا ' کے کارکن اپنے دفتر کے ارد گرد پھیلا وی ملبہ صاف کر رہے تھے جو جمعرات کے روز ایک فوجی آپریشن میں کی گئی تباہی کے بعد ملبے کی صورت ہر طرف پھیل گیا تھا ۔

نور شمس کیمپ میں فون کی دکان چلانے والے فلسطینی شفیق احمد جد نے اس موقع پر ' اے ایف پی' کو بتایا ' ہمارے لیے یہ 'انروا' نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے۔'

ایک اور فلسطینی جبر ابو تقا نے کہا ' پناہ گزین ' انروا ' کو اپنی ماں کی طرح سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی اپنی ماں کو کھو دے تو آپ اس کی حالت کا تصور کر سکتے ہیں۔' ادھر ' انروا' کے سربراہ لازا رینی نے ایجنسی کے اس دفتر کی تباہی کا ذمہ دار اسرائیلی فوج کو قرار دیا ہے۔

تاہم اسرائیلی فوج اس بارے میں روایتی تردید کے ساتھ کھڑی ہے۔ بلکہ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ ' انروا ' کے دفتر کی تباہی فلسطینی عسکریت پسندوں کے نصب کردہ بارود کی وجہ سے ہوئی ہے۔

مغربی کنارے میں 'انروا ' کے سربراہ رولینڈ فریڈرک نے کہا ہمیں اب اپنے دفتر کو منتقل کرنا پڑے گا۔ یقیناً یہ ایک بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔'

رولینڈ نے ہفتے کے روز پناہ گزینوں سے بات کرتے ہوئے کہا ' اس صورت حال کا نفسیاتی اثر یقینا تباہ کن ہے۔'

یہ حملہ ہمارے حق واپسی پر ہے !

اپنی ٹوٹ پھوٹ چکی فون شاپ پر کھڑا زفیق احمد جد دیکھ رہا تھا کہ ملبہ اٹھایا جا رہا ہے اور تکنیکی ماہرین مواصلاتی کیبل کی مرمت کر رہے ہیں۔ اس نے کہا 'افراتفری کا ماحول کنیسٹ کی طرف سے 'انروا' پر لگائی گئی حالیہ پابندیوں کی وجہ سے ہے۔'

اس نے مزید کہا کہ اگر طولکرم میں بھی 'انروا' کی انسانی بنیادوں پر ہونے والی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی تو بیماریاں اور زیادہ پھیلیں گی کہ سڑکوں پر ہر طرف ملبہ اور کچرا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں