غزہ ولبنان پراسرائیلی جارحیت:عرب ومسلم ممالک کےسربراہان کی غیرمعمولی کانفرنس ریاض میں طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عرب اور مسلم ممالک کے رہنما پیر کے روز سے شروع ہونے والی غزہ اور لبنان سے متعلق اہم کانفرنس کے سلسلے میں سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔

غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اور لبنان پر اسرائیلی یلغار کے تناظر میں سعودی وزارت خارجہ نے اکتوبر کے اواخر میں عرب اور مسلمان ملکوں کی اس سربراہ کانفرنس کا اعلان کیا تھا۔ تاکہ ان سب کی مشاورت سے خطے کے اہم ترین تنازعے کے دو ریاستی حل کے لیے کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

سعودی خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' کے مطابق سربراہ کانفرنس کے شرکاء فلسطینیوں پر اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کے علاوہ لبنان پر حملوں کے ساتھ ساتھ خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے ۔

یہ کانفرنس عرب لیگ کی دعوت پر ہونے والی اس کانفرنس کے بعد ہو رہی ہے جو غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کے لیے کچھ عرصہ پہلے منعقد کی گئی تھی۔

سعودی عرب کے ریاستی ٹی وی چینل نے نائیجرین صدر اور لبنان کے نگران وزیر اعظم کے سعودی عرب پہنچنے کی خبر دی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی بھی اس سربراہ کانفرنس میں شرکت متوقع ہے۔

یاد رہے پاکستان فوری جنگ بندی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے۔ تاہم اسرائیل کے بارے میں کسی بھی بڑے فیصلے کے لیے پاکستان نے سعودی عرب کو غیر علانیہ طور پر اپنے تعاون کا یقین دلا رکھا ہے۔

اتوار کے روز سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے وزراء کے ایک اجلاس کی صدارت کی جو اس غیر معمولی سربراہ کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں تھی۔ کانفرنس کا سیشن پیر کے روز ہو گا۔

واضح رہے اب تک غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں 43000 سے زائد فلسطینی قتل ہو چکے ہیں۔ جبکہ لبنان میں کم و بیش 3000 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں