برطانیہ کے نصف کاروبار شرقِ اوسط کے تنازعات سے متاثر ہوئے ہیں: برطانوی ایوانِ تجارت

اخراجات میں اضافہ، نقل و حمل میں رکاوٹیں درپیش: سروے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانوی ایوانِ تجارت (بی سی سی) کے ایک جائزے کے مطابق برطانیہ کے نصف کاروباریوں نے کہا ہے کہ وہ شرقِ اوسط میں تنازعات سے متأثر ہوئے ہیں۔

نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ اور لبنان میں لڑائی کے تباہ کن انسانی اثرات کے علاوہ دنیا بھر میں معاشی اثرات بھی محسوس ہو رہے ہیں۔

غزہ میں اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد یمن میں حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملہ کرنا شروع کر دیا تھا۔

باغیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا کے ایک مصروف ترین سمندری تجارتی راستے سے گذرنے والی ٹریفک میں بہت زیادہ کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

بی سی سی نے کہا کہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے تجارتی کنٹینر کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ شنگھائی سے روٹرڈیم تک 40 فٹ (12 میٹر) کے کنٹینر کی ترسیل کی لاگت تنازعہ کے آغاز میں 1,000 ڈالر سے کچھ ہی زیادہ تھی جو بڑھ کر اب تقریباً 4,000 ڈالر ہو گئی ہے۔ جولائی میں قیمتیں 8,000 سے زیادہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھیں۔

ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کرنے والی نقل و حمل کی زیادہ تر کمپنیوں نے جہاز بھیجنے کے لیے بحیرۂ احمر اور سوئز کینال کے بجائے راس ہارن کے اردگرد کا طویل راستہ اختیار کر لیا ہے۔

بی سی سی کے تحقیقی یونٹ کے اس ہفتے شائع ہونے والے تقریباً 650 کاروباروں کے جائزے میں برطانیہ کی کمپنیوں نے کہا کہ تنازعات کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ، نقل و حمل میں خلل اور تاخیر اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوئی۔

جائزے میں شریک لوگوں میں سے نصف نے کہا کہ وہ تنازعہ سے متأثر ہوئے جبکہ اکتوبر 2023 میں ایسے ہی ایک سروے میں یہ تعداد صرف ایک چوتھائی تھی۔

بی سی سی کے تجارتی پالیسی کے سربراہ ولیم بین نے کہا: "شرقِ اوسط میں جاری تنازعہ کے سنگین انسانی اثرات کے ساتھ ساتھ تمام دنیا میں اس صورتِ حال کے باعث معاشی تبدیلیاں بھی جاری ہیں۔"

انہوں نے کہا، "جتنا زیادہ لڑائی طوالت اختیار کر رہی ہے، یہاں برطانیہ میں کاروبار پر اثر اتنا ہی بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اگر موجودہ صورتِ حال برقرار رہی تو اس بات کا مزید امکان ہے کہ اخراجات کا دباؤ اور بڑھے گا۔"

ماہرینِ اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ عالمی معیشت پر اثرات اب تک زیادہ تر جہاز رانی کے اخراجات اور تاخیر تک ہی محدود رہے ہیں لیکن اس میں مزید اضافہ بہت وسیع اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

سب سے بڑی تشویش تیل اور گیس کی سپلائی میں خلل کی صورت میں ہو گی جو توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور افراطِ زر کو ہوا دینے کا باعث بنے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں