عراق میں 1987 کے بعد سے اب تک کی پہلی باقاعدہ مردم شماری کے لیے تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ بدھ کے روز بتایا گیا ہے کہ تقریباً 43 ملین آبادی کے حامل اس ملک میں صدام حسین کے دور حکومت کے بعد پہلی مردم شماری ہوگی۔ جو آنے والے برسوں میں ملکی منصوبہ بندی اور تعمیر و ترقی میں مدد دے گی۔
وزارت منصوبہ بندی کے ترجمان عبدالزہرالہنداوی نے اس بارے میں تفصیلی آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں طویل بد امنی کی وجہ سے مردم شماری التوا میں رہی ہے۔ اب استحکام آگیا ہے اس لیے مردم شماری کو کامیابی سے مکمل کیا جا سکے گا۔
1997 میں عراق کے کرد علاقے میں مردم شماری کا انعقاد التوا میں رکھا کیا گیا تھا۔ اس علاقے میں عراق کی مشہور خلیجی جنگ کے بعد سے کردوں کی حکومت قائم چلی آرہی تھی۔ اس دور کی مردم شماری کو جنگجوؤں اور نسلی بنیادوں پر متحارب گروپوں کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں مردم شماری بار بار التوا کا شکار رہی۔
کرد سیاستدان شان داؤدی کا اس سلسلے میں کہنا ہے 'یہ مردم شماری کرکوک سمیت تمام متنازعہ علاقوں کو بھی اپنے دائرے میں لے گی۔ جہاں مختلف گروہوں کے درمیان عدم اتفاق پایا جاتا ہے۔'
ترجمان منصوبہ بندی وزارت نے کہا ' مردم شماری سے سامنے آنے والے حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر ترقیاتی انفراسٹرکچر، تعلیم ، ہیلتھ کیئر اور دوسری سماجی خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔
عراقی حکومت نے مردم شماری کے انعقاد کے لیے ہر ممکن اقدامت کیے ہیں۔ منگل کی رات سے کرفیو کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔