بیروت اور اس کے اطراف حاضری کے ساتھ تدریس معطل ، فاصلاتی تعلیم کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان میں حکومت نے دار الحکومت بیروت اور اس کے نزدیک واقع علاقوں میں تمام سرکاری و نجی اسکولوں، جامعات اور تعلیمی اداروں میں سال کے اختتام تک حاضری کے ساتھ تدریس روک دینے اور اس کی جگہ فاصلاتی تعلیم کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی "موجودہ خطرناک صورت حال" کے سبب کیا گیا۔

لبنان میں تعلیم کے وزیر عباس الحلبی نے اتوار کے روز جاری بیان میں کہا کہ "بیروت، شمالی متن کے ساحل، الشوف کے ساحل اور بعبدا کے ساحل کے علاقوں میں واقع تمام تعلیمی اداروں میں دسمبر 2024 کے اختتام تک حاضری کے ساتھ تدریس معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران میں فاصلاتی تعلیم (آن لائن تعلیم) کو یقینی بنایا جائے گا ... اس اقدام کا مقصد موجودہ خطرناک حالات میں طلبہ اور تدریسی ارکان کی سلامتی ہے"۔

قدرات قنابل المطرقة الأميركية المستخدمة في الغارات الإسرائيلية على بيروت
قدرات قنابل المطرقة الأميركية المستخدمة في الغارات الإسرائيلية على بيروت

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ میں کئی محلوں میں عمارتوں پر شدید فضائی حملے جاری رکھے۔ حملوں سے پہلے ان عمارتوں کے رہائشیوں کو جگہ خالی کرنے کے حوالے سے خبردار کیا گیا۔ ادھر حزب اللہ نے اتوار کے روز ایک دن کے اندر اسرائیل پر 250 کے قریب راکٹ داغے۔

لبنانی وزارت صحت نے اتوار کے روز اعلان میں بتایا کہ ہفتے کے روز دار الحکومت بیروت کے وسط میں گنجان آباد علاقے پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی جب کہ بم باری میں 67 افراد زخمی بھی ہوئے۔ ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

وزارت کے بیان کے مطابق ہفتے کے روز لبنان کے تمام علاقوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 84 اور زخمیوں کی تعداد 213 رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں