سعودی عرب : منشیات کے خلاف جنگ اور معاشرے میں آگاہی مہم جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

انسداد منشیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف اسمگلروں اور منشیات فروشوں کا مقابلہ کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک جامع معرکہ بن چکی ہے جس کا مقصد نئی نسل کو اس زہر سے محفوظ رکھنا ہے جو ان کی عقل اور جسم کو نشانہ بناتا ہے۔

اس حوالے سے انسداد منشیات کے شعبے کے بین الاقوامی ماہر عبد الالہ الشريف نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ جرائم پیشہ گروہ اور نیٹ ورک اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے تمام وسائل کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اسمگلروں کی جانب سے جدید ٹکنالوجی اور زمینی، فضائی اور سمندری ذرائع نقل و حمل کا استعمال کیا جا رہا ہے، اسی طرح وہ فرضی ناموں سے جدید میڈیا کا فائدہ اٹھا رہے ہیں تا کہ منشیات کو فروغ دیا جا سکے اور نوجوان مرد اور عورتوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو اس گڑھے میں گرایا جا سکے۔

الشریف کے مطابق جہاں بھی اسمگلنگ کا ایک ذریعہ سامنے آ جاتا ہے تو اسمگلروں کی جانب سے کوئی دوسرا زیادہ پیچیدہ ذریعہ اختیار کر لیا جاتا ہے۔ البتہ سعودی سیکورٹی ادارے اور کسٹم حکام ہمیشہ ان کی گھات میں رہتے ہیں۔ اس کا ثبوت مسلسل ضبط ہونے والی منشیات اور نشہ آور اشیاء ہیں۔

واضح رہے کہ 22 نومبر سے اب تک صرف تین روز میں سعودی سیکورٹی اداروں نے 28 لاکھ سے زیادہ نشہ آور کیپٹاگون گولیاں ضبط کیں۔

الشریف نے باور کرایا کہ سعودی عرب ان ممالک میں سے ہے جن کو منشیات فروشوں کی جانب سے براہ راست ہدف بنایا جاتا ہے تا کہ نوجوانوں کے ذہنوں کو ناکارہ کیا جا سکے۔ تاہم سیکورٹی اور کسٹم حکام اسمگلنگ کی مسلسل کوششوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ اس آفت کا مقابلہ کرنے کے لیے آگاہی واحد ہتھیار ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو منشیات کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے گھرانوں، اسکولوں اور میڈیا پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔

الشریف کے مطابق کسی بھی گھرانے میں نشے کی حالت کا انکشاف ہونے کی صورت میں جلد علاج کی بڑی اہمیت ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری ہسپتالوں اور مخصوص مراکز کا رخ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ نشے کی لت کے شکار انسان کو بچایا جا سکے اور دوبارہ سے معمول کی زندگی کی طرف واپس لایا جا سکے۔

منشیات کی اسمگلنگ کی کوششیں روکنے کے حوالے سے سعودی عرب کی صلاحیت میں روز بروز اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں معاشرے میں آگاہی مہم اور سیکورٹی اداروں کی کوششوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں