کیا شام خانہ جنگی کے دور میں دوبارہ واپس آنے والا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

’ھیۃ تحریر الشام‘ اور اس کے اتحادی مسلح دھڑے شام کے چوتھے بڑے شہر حماۃ کو تین اطراف سے گھیرے میں لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ جب کہ ادلب اور حلب پر اچانک حملے کے بعد یہ دونوں بڑے شہر اس وقت اپوزیشن جنگجوؤں کے کنٹرول میں آگئے ہیں۔

بشارالاسد اور انقرہ کے درمیان رابطہ؟

یہ پیشرفت کشیدگی کو کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے درمیان سامنے آئی ہے۔ ایک روسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے گذشتہ ہفتے اپنے وزیر خارجہ کے دورے کے ذریعے شمالی شام میں ترکیہ کے وفادار دھڑوں کو روکنے کے لیے انقرہ کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کی تھی۔

رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ تہران نے انقرہ سے مطالبہ کیا کہ وہ 2 دسمبر کو اپنے وزیر خارجہ کے دورہ انقرہ کے دوران شام میں اس کے وفادار عسکریت پسندوں کے حملے کو روکے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان تضادات کی موجودگی کو تسلیم کیا، لیکن انہوں نے مشترکہ خیالات کا بھی اعلان کیا۔

گرم جنگ میں واپسی؟

رپورٹ میں ان میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے شام کے صدر بشار الاسد نے ان دنوں ترکیہ کے ساتھ رابطے قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ دمشق کا خیال ہے کہ ترکیہ کے پاس مسلح دھڑوں اور شمال میں ھیۃ تحریر الشام کے ساتھ بات چیت کرنے کی صلاحیت ہے۔

اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا شام گرم جنگ میں واپس آئے گا یا اس سے بچ جائے گا؟

رپورٹ میں اشارہ دیا گیا کہ ایران شامی حکومت کو اضافی ہتھیاروں اور براہ راست فوجی کمک کے ساتھ مدد کر سکتا ہے، لیکن اس مسئلے کی بنیادی وجہ غزہ کی پٹی میں جنگ کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے گذشتہ مہینوں کے دوران شام میں ایران کے زیر کنٹرول فارمیشنز سے منسلک مختلف مقاصد کے خلاف اپنے حملوں کی رفتار اور شدت میں بہت اضافہ کیا ہے۔

خطے میں امریکی افواج کے ساتھ تعلقات بھی بہت کشیدہ ہیں۔ امریکیوں اور ایران نواز افواج کے درمیان حملوں کے متواتر تبادلوں کے تناظر میں شام کو کمک اور ہتھیاروں کی منتقلی بہت پیچیدہ مسئلہ بن سکتی ہے۔

اگرچہ شام کو جاسوسی اور حملہ کرنے والے ڈرونز کی تعیناتی سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے شام کے فضائی اڈے اسرائیل کے حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ مسلح دھڑوں نے گذشتہ ہفتے اسد رجیم کے خلاف اچانک اور ڈرامائی اندازہ میں حملہ کردیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے شامی فوج ریت کی دیوار کی طرح گرتی چلی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں