شام میں مسلح گروپ ملک کے چوتھے بڑے شہر حمات پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے بعد العربیہ نیوز کا کیمرا حمات کے عسکری ہوائی اڈے میں داخل ہو گیا۔ اس دوران میں العربیہ کا نمائندہ ہوائی آڈے میں گھومتا رہا جہاں ایک فوجی اور ایک لڑاکا طیارے کے علاوہ کئی میزائل اور راکٹ نظر آئے۔
حالیہ دنوں میں حمات کا فوجی ہوائی اڈہ کثیر سرگرمیوں کا مرکز رہا۔
اس سے قبل شام کے وزیر دفاع علی محمود عباس نے جمعرات کی شام ایک ٹی وی بیان میں زور دیا کہ حمات میں جو کچھ ہوا ہو ایک عارضی تدبیری اقدام تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی افواج ابھی تک حمات شہر کے اطراف موجود ہیں۔
شامی وزیر دفاع کے مطابق "ہماری فوج کی حمات کے باہر دوبارہ تعیناتی شہریوں کی حفاظت کے لیے تھی ... ہماری فوج اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے"۔
جمرات کے روز شامی فوج کے انخلا کے بعد "تحرير الشام" تنظیم نے حمات شہر پر مکمل کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔
شامی فوج کے بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ مسلح گروپ حمات شہر میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس طرح ادلب اور حلب کے بعد یہ تیسرا شہر ہے جو شامی فوج کے ہاتھوں سے نکل گیا۔
تحریر الشام تنظیم اور دیگر اتحادی گروپوں نے تقریبا ایک ہفتہ قبل ملک کے شمال مغرب میں واقع ادلب سے اپنے حملے کا آغاز کیا تھا۔
شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ المرصد کے مطابق لڑائی میں اب تک 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مسلح گروپوں کے اعلان میں بتایا گیا ہے کہ شامی فوج کے 65 سے زیادہ فوجی اور افسران مارے گئے ہیں۔