بشار الاسد کے زوال تک، 12 دنوں میں 9 مقامات پر قبضے نے شام کو تبدیل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

13 سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے تنازعے کے بعد شام نے گزشتہ چند دنوں کے دوران ایک بنیادی تبدیلی دیکھی ہے۔ اس تبدیلی کی نمائندگی تنظیم ’’ تحریر الشام‘‘ اور اس کے اتحادی دھڑوں نے ملک کے شمال میں ایک بڑے حملے میں شروع کی اور اس کا اختتام مسلح دھڑوں کے دمشق میں داخل ہونے اور بشار الاسد کے "فرار" ہونے کے اعلان سے ہوا۔

ذیل میں چند دنوں کا ایک جائزہ پیش ہے۔

27 نومبر: آغاز

تنظیم ’’تحریر الشام ‘‘ (القاعدہ سے علیحدگی سے پہلے النصرہ فرنٹ) نے اتحادی مسلح اپوزیشن گروپوں کے ساتھ مل کر ملک کے شمال میں شامی حکومتی فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں پر حملہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ یہ حملے ادلب گورنری سے شروع کئے گئے۔ ادلب حزب اختلاف کا سب سے نمایاں گڑھ ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق لڑائیوں کے نتیجے میں ایک دن میں 141 افراد جاں بحق ہوگئے۔

28 نومبر: سڑک بلاک

حزب اختلاف کے گروپوں نے شمالی شام کے سب سے بڑے شہر اور ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب کی طرف تیزی سے پیش رفت کی۔ اپوزیشن گروپس حلب اور دمشق کے درمیان مرکزی سڑک کو کاٹ دینے میں کامیاب ہوگئے۔

آبزرویٹری نے اعلان کیا کہ مسلح دھڑوں نے "دمشق-حلب بین الاقوامی سڑک (M5) کو حلب کے دیہی علاقوں میں الزربہ کے قصبے میں منقطع کر دیا ہے۔ سراقب شہر میں بین الاقوامی سڑکوں ’’ ایم فور‘‘ اور ’’ ایم فائیو‘‘ کے نوڈ کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے۔ یہ بین الاقوامی سڑکیں برسوں کے دوبارہ کھلنے کے بعد رک گئیں۔

29 نومبر: حلب کے دروازے پر

اپوزیشن عسکریت پسند اسی نام کے صوبے کے دیہی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کے بعد حلب شہر کے دروازوں پر پہنچ گئے اور 50 سے زیادہ دیہاتوں اور قصبوں پر کنٹرول کرلیا۔ روس کی حمایت یافتہ شامی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ادلب اور اس کے اطراف میں فضائی حملے کیے۔ شامی حکام نے "دہشت گرد" گروہوں کے حملے کو پسپا کرنے کے لیے اپنے کام کی تصدیق کی۔ ماسکو نے ان سے حلب کے دیہی علاقوں میں فوری طور پر دوبارہ آرڈر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

30 نومبر: پیشگی

ھیئہ تحریر الشام اور اس کے اتحادی دھڑوں نے حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، سرکاری عمارتوں اور جیلوں کے علاوہ حلب شہر کے بیشتر محلوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ روسی طیاروں نے فضائی حملے شروع کردئیے۔ یہ 2016 میں حکومتی افواج کے دوبارہ مکمل کنٹرول کے بعد شہر پر پہلا روسی حملہ تھا۔ حزب اختلاف نے ادلب گورنری میں مزید پیش قدمی کی اور سراقب شہر کا کنٹرول سنبھال لیا۔

یکم دسمبر: حلب حکومتی کنٹرول سے نکل گیا

حلب شہر 2011 میں ملک میں تنازع شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ مکمل طور پر شامی حکومتی فورسز کے کنٹرول سے باہر نکل گیا۔ تنظیم ’’ تحریر الشام‘‘ اور اس کے اتحادی دھڑوں نے کردوں کے علاوہ اس کے تمام محلوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ بشار الاسد نے "دہشت گردی" کو ختم کرنے کے لیے "طاقت" کا استعمال کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ بشار الاسد نے کہا کہ دہشت گردی صرف طاقت کی زبان کو سمجھتی ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس سے ہم اسے توڑیں گے اور ختم کریں گے۔ آبزرویٹری کے مطابق ادلب پر روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

2 دسمبر: حمایت کی تصدیق

تنظیم ’’تحریر الشام‘‘ اور اس کے اتحادی دھڑوں کے حملے کے متوازی طور پرترکیہ کی حمایت یافتہ مسلح دھڑوں نے تل رفعت (شمال) شہر کو کنٹرول کرنے اور کرد فورسز کو وہاں سے نکالنے کے لیے پیش قدمی کی۔ بشار الاسد نے شمالی شام میں ہونے والے حملے کو خطے کو تقسیم کرنے اور اس کے نقشے دوبارہ تیار کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ شامی ایوان صدر کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی میں جو اضافہ ہو رہا ہے وہ خطے کو تقسیم کرنے، اس کے ملکوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور نقشوں کو دوبارہ بنانے کی کوششوں کے دور دراز مقاصد کی عکاسی کررہاہے۔ بشار الاسد نے زور دیا کہ تشدد صرف شام اور اس کی فوج کے مزید تصادم پر اصرار میں اضافہ کرے گا۔ تہران اور ماسکو نے دمشق کے لیے "غیر مشروط" حمایت کی تصدیق کی ۔ روسی اور شامی طیاروں نے ملک کے شمال مغرب میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے۔

5 دسمبر: حماۃ کا زوال

تنظیم ’’ تحریر الشام‘‘ اور اس کے اتحادی گروپوں نے شام کے وسطی شہر حماۃ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ یہاں مرحوم صدر حافظ الاسد کا ایک مجسمہ گرا دیا گیا۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق مسلح دھڑوں کی جانب سے حاصل ہونے والی پیش رفت کی روشنی میں ہزاروں باشندوں نے ملک کے تیسرے بڑے شہر حمص سے نکلنا شروع کر دیا۔ ایک ہفتے کی بمباری اور لڑائیوں میں مرنے والوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر گئی۔

7 دسمبر: حمص کا سقوط

حزب اختلاف کے دھڑوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے سٹریٹجک شہر حمص کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور گروپ کے جنگجو دارالحکومت کے قریب بھی پہنچ گئے ہیں۔ شامی حکام نے کہا کہ انہوں نے دمشق کی سیکورٹی مضبوط کردی اور فوجی محاصرہ نافذ کر دیا ہے۔ ’’ھیئہ تحریر الشام‘‘ کے رہنما ابو محمد الجولانی نے حمص پر کنٹرول کو ایک تاریخی واقعہ جو حق کو باطل سے الگ کر دے گا" قرار دیا۔ اس کے فوراً بعد مسلح دھڑوں نے شہر کے محلوں میں گھسنے کا اعلان کیا ۔

اسی دن اپوزیشن کے دھڑوں نے اعلان کیا کہ وہ دمشق کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ حکومتی فورسز نے ملک کے جنوب میں درعا اور قنیطرہ گورنری کا کنٹرول کھو دیا۔ سفارتی طور پر ماسکو نے "دہشت گرد گروپ" کے لیے شام کی حکمرانی پر قبضہ کرنا ناقابل قبول قرار دیا۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں روس، ایران اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان شام میں تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات پر تبادلہ خیال کے لیے ملاقات ہوئی۔ جیسے جیسے رات بڑھی اپوزیشن دھڑوں نے اعلان کیا کہ ان کی افواج دمشق میں داخل ہونے لگی ہیں۔

اسی وقت لبنانی حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ بشار الاسد کے ساتھ اتحاد کرنے والے دھڑے نے دمشق اور حمص کے آس پاس کے علاقوں سے لبنان اور شام کے ساحلی علاقے کی طرف اپنے ارکان کو واپس بلا لیا ہے۔

8 دسمبر: نیا دور

تنظیم ’’ تحریر الشام‘‘ اور اس کے اتحادی اپوزیشن گروپوں کے جنگجوؤں کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد حزب اختلاف کے دھڑوں نے بشار الاسد کی فرار ہونے اور شام میں ایک ’’نئے دور‘‘ کے آغاز کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا "ظالم بشار الاسد بھاگ گیا ہے... ہم دمشق شہر کو آزاد قرار دیتے ہیں۔"

اپنی طرف سے شام کے وزیر اعظم محمد الجلالی نے اعلان کیا کہ وہ اداروں کو عوام کی طرف سے منتخب کردہ کسی بھی "قیادت" کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دارالحکومت کے رہائشی خوشی کے عالم میں سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے گھنٹوں تک ہوا میں گولیاں چلائیں۔ مساجد میں تکبر کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ خوشی میں نعرے لگائے گئے۔ ایجنسی فرانس پریس کی ایک ویڈیو کے مطابق شامیوں کے ایک گروپ نے وسطی دمشق میں مرحوم صدر حافظ الاسد کے مجسمے کو گرا دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں