شام سے روس کے انخلا کی کوئی علامات نہیں، وڈیو اور تصاویر کے شواہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اگرچہ شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے سقوط اور سرکاری فوج کے اپنے ٹھکانوں سے انخلا کے بعد سے ملک کے اکثر علاقوں پر "مشترکہ عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ" (تحریر الشام تنظیم اور اس کے اتحادی گروپ) کا کنٹرول ہے تاہم الاذقیہ اور طرطوس میں روس کے فوجی اڈے جوں کے توں باقی ہیں۔

کل منگل کے روز حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر میں طرطوس کے بحری اڈے یا لاذقیہ کے قریب حمیمیم کے فضائی اڈے سے روسی انخلا کی کوئی علامات نظر نہیں آئیں۔ یہ دونوں ہی شام کے مغربی ساحل پر واقع ہیں۔

اگرچہ گذشتہ ہفتے سیٹلائٹ تصاویر اور ریڈار آلات میں نقل و حمل کے بھاری طیاروں کو حمیمیم کے اڈے کی طرف حرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا تاہم کئی تجزیہ کاروں نے باور کرایا ہے کہ آمد و رفت کا حجم اس بات کا پتا نہیں دیتا کہ ان اڈوں کو خالی کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں نے یہ بھی واضح کیا کہ ساز و سامان یا افراد کے انخلا کے لیے کوئی بھی روسی بحری جہاز ابھی تک طرطوس نہیں پہنچا۔

اس حوالے سے کارنیگی فاؤنڈیشن فار انٹرنیشنل پیس کی خاتون محققہ دارا میسیکوٹ نے بتایا کہ "تبدیلی یا انخلا واقع ہونے کا قوی اشارہ 'الیوشن' اور 'النتونوف' طیاروں کی تعداد سے سامنے آئے گا۔ اگر یہ طیارے طرطوس سے کوچ پر مجبور ہوئے تو ہم چیزوں کی منتقلی میں مدد کے لیے مزید بحری جہازوں کو دیکھیں گے۔ اس وقت آپ یہ جان سکیں گے کہ آیا کوئی عملی انخلا ہو رہا ہے"۔ یہ بات برطانوی اخبار "فنائنشل ٹائمز" نے بتائی۔

شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ "المرصد" نے العربیہ نیوز چینل کو تصدیق کی ہے کہ روس کے تمام فوجی اثاثے ابھی تک اپنی جگہ پر موجود ہیں۔

ادھر Tufts یونیورسٹی میں فلیچر اسکول آف لاء اینڈ ڈپلومیسی کی خاتون محققہ پیول لوزین کا کہنا ہے کہ ان فوجی اڈوں سے محرومی کے نتیجے میں روس بحیرہ روم میں اپنی بحری افواج کی مستقل موجودگی سے ہاتھ دھو سکتا ہے اور افریقا میں آپریشنز کا سلسلہ بھی رک سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ فوجی اڈے روس کو سابق شامی صدر بشار الاسد کی سپورٹ کے لیے با اختیار بنانے میں فیصلہ کن اہمیت رکھتے تھے۔

کرملن ہاؤس پہلے ہی یہ باور کرا چکا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت گرنے کے بعد شام میں اس کے اڈوں کا مستقبل نئے حکام سے مذاکرات پر منحصر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں