مصر میں ترکیہ کے سفیر صالح متلو سین نے زور دے کر کہا کہ شام کے واقعات ان کے ملک کو متاثر کر رہے ہیں۔ انھوں نے العربیہ کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ ترکیہ ایک متحد شام چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا ہم شام پر اپنا تسلط مسلط نہیں کرنا چاہتے۔ داعش اور کرد جنگجوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ شام سے دہشت گردی کا کوئی خطرہ ہمیں درپیش ہو۔
ترک وزیر خارجہ دمشق جائیں گے
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام میں نئی حکومت کو اپنے لوگوں پر انحصار کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی برادری نے شام کی نئی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شام کو تعمیر نو کے لیے مدد کی ضرورت ہے اور ترکیہ شام کے لیے اپنی مدد بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان جلد شام کے دارالحکومت دمشق کا دورہ کریں گے۔
داعش اور پی کے کے کا خاتمہ
اس سے قبل ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے داعش اور کرد جنگجوؤں کے حوالے سے اعلان کیا کہ شام کی بقا کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد گروہوں کو تباہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔
انہوں نے قاہرہ سربراہی اجلاس سے واپسی کے دوران صحافیوں سے یہ بھی کہا کہ داعش، کردستان ورکرز پارٹی اور ان سے منسلک گروہ جو شام کی بقا کے لیے خطرہ ہیں، کا خاتمہ ضروری ہے۔
شدید لڑائیاں
شمالی شام میں منبج سے 50 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع عین العرب کے نام سے جانے والے کردوں کے زیر کنٹرول سرحدی قصبے کوبانی پر ترکیہ کے حملے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
8 دسمبر 2024 کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے گزشتہ 12 دنوں میں منبج اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ’’ ایس ڈی ایف‘‘ اور ترک حمایت یافتہ "سیریئن نیشنل آرمی" کے درمیان شدید لڑائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
2016 اور 2019 کے درمیان
واضح رہے 2016 اور 2019 کے درمیان، شمالی شام میں تین بڑی کارروائیوں کی گئی تھیں۔ یہ کارروائیاں ترکیہ نے کی تھیں۔ ان حملوں میں داعش اور کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو یکساں طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کارروائیوں کے بعد سے انقرہ نے اپنے فوجیوں کو ان علاقوں میں تعینات کر دیا ہے۔ آج ان کی تعداد کا تخمینہ 16 سے 18 ہزار کے درمیان ہے۔
تاہم شام کے منظر میں بشار حکومت کے زوال کے ساتھ ہی شام کے تمام بڑے شہروں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد مسلح گروپوں کی دمشق کی طرف پیش قدمی کے ساتھ، گزشتہ چند دنوں میں تیزی سے پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے۔ ان گروپوں میں سے کچھ ترکیہ کے ساتھ منسلک ہیں۔
اس صورت حال نے شامی مساوات میں انقرہ کی پوزیشن کو مضبوط کیا اور ایرانی اور روسی اثر و رسوخ کو کم کیا ہے۔ ترکیہ نے دمشق میں نئے حکام سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ "کرد فورسز" کے ساتھ کام کرنے سے پہلے ان کے مسئلے کو مکمل طور پر حل کر لیں۔
-
امریکی وفد کے دورہ دمشق کی مزید تفصیلات آ گئیں
امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی سفارتی وفد کے شامی دارالحکومت کے دورے کی تفصیلات سے ...
مشرق وسطی -
مزید گواہیاں: بشار حکومت نے کیسے شامیوں کو کیمیائی ہتھیاروں سے ہلاک کیا
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شامیوں کے ذہن میں ان تمام سانحات کی یاد تازہ ...
مشرق وسطی -
شمالی شام میں دو ترک صحافی ہلاک ہو گئے: حقوق گروپ
ہلاکتیں انقرہ اور امریکہ کی حمایت یافتہ افواج کے درمیان تشرین میں لڑائی میں ہوئیں
مشرق وسطی