بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شامیوں کے ذہن میں ان تمام سانحات کی یاد تازہ ہوگئی ہے جو سابق حکومت کے دور میں پیش آئے تھے۔ قتل و غارت، گرفتاریوں اور کیمیائی ہتھیاروں سے شہریوں کو مارنے کے حوالے سے بھی بحث دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم نے دمشق کے دیہی علاقوں میں الغوطہ کے علاقے کا دورہ کیا جہاں کیمیائی ہتھیاروں سے بمباری کی گئی تھی۔ سیریئن نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس بمباری کے نتیجے میں 200 سے زائد بچوں اور خواتین سمیت تقریباً 1450 شہری ہلاک اور 6000 دیگر زخمی ہوئے تھے۔
اس سانحہ کے حوالے سے ایک مقامی رہائشی نوجوان نے بتایا کہ 21 اگست 2013 کو حکومت نے مشرقی اور مغربی الغوطہ کے قصبوں پر حملہ کیا تھا۔ ان قصبوں میں زملكا، عربين اور المعضمية شامل تھے۔ درجنوں میزائلوں سے کیے گئے اس حملے میں سارین گیس بھی استعمال کی گئی تھی۔
نوجوان نے مزید کہا کہ انہیں صبح 1:30 بجے ایک سرکلر موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ کیمیائی حملہ کیا گیا ہے۔ یہ حملہ اس علاقے میں کام کرنے والے طبی عملے کی ہلاکت کے بعد کیا گیا۔ مرنے والوں میں کوریج کرنے والے میڈیا کے افراد بھی شامل تھے۔
مقامی رہائشی نے جو ہوا اسے یاد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ان پیرامیڈیکس میں شامل تھا جنہوں نے لوگوں کو ہسپتالوں میں پہنچایا۔ اس وقت زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جن میں بچے، خواتین اور بوڑھے شامل تھے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس حملے میں لوگوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ سو رہے تھے۔ کیمیائی بمباری کے ساتھ توپ خانے کی گولہ باری بھی کی جارہی تھی۔
انہوں نے کہا جو کچھ میں نے دیکھا اسے کبھی بھی بھول نہیں سکوں گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دن مردہ بچوں اور دیگر مرنے والے افراد کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس دن کے خراب حالات نے پیرا میڈیکس کو لاشوں پر نمبروں والے کاغذات چسپاں کرنے پر مجبور کیا تھا۔
بین الاقوامی مذمت
واضح رہے برسوں تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم سمیت بین الاقوامی تنظیموں نے کیمیائی ہتھیاروں کے متعدد حملوں کی ذمہ داری شامی حکومت کی ہونے کی تصدیق کی تھی لیکن بشار الاسد نے اس معاملے کی مسلسل تردید کی تھی۔ ان کے ویٹو کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی انہیں جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔
2013 میں الغوطہ کے قتل عام کے بعد بین الاقوامی کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں شامی حکومت کے ذخیرہ کرنے والے سٹورز اور کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے طریقہ کار کو تباہ کر دیا گیا۔
شامی نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس کے اعداد و شمار کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں تقریباً 1,450 شہری مارے گئے تھے جن میں 200 سے زیادہ بچے اور خواتین شامل تھے۔ اس حملے میں 6000 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
-
روسی بتدریج حمیمیم کی طرف انخلا کر رہے ہیں: العربیہ کا انکشاف
صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد روس نے شام سے بڑی تعداد میں فوجی سازوسامان ...
مشرق وسطی -
بشار حکومت کا سقوط ، مشہور شامی اداکار کی 12 برس بعد وطن واپسی
شامی حکومت کے سقوط اور بشار الاسد کے رخصت ہو جانے کے چند روز بعد معروف شامی اداکار ...
بين الاقوامى -
بشار الاسد کے فرار کی مزید تفصیل آ گئی، نئی فوجی قیادت کا سابق نائب صدر المقداد سے رابطہ
ایک حالیہ نئی پیش رفت میں انکشاف ہوا ہے کہ شام کی نئی فوجی قیادت اور شام کے سابق ...
مشرق وسطی