اسرائیلی فوج نے منگل کے روز شمالی غزہ کی پٹی میں ہسپتالوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہستپالوں میں موجود مریضوں اور زخمیوں کو شدید ہزیمت اور مشکل کا نشانہ بنایا گیا۔ منگل کی صبح سویرے اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ کی پٹی کے بیت لاہیا قصبے میں بیمار اور زخمیوں کو انڈونیشیا کے ہسپتال کو خالی کرنے پر مجبور کیا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی کہ فوج نے ہسپتال کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ بیماروں اور زخمیوں کو وہاں سے نکالنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ توپ خانے سے گولہ باری کے ساتھ ہسپتال کے آس پاس اور بیت لاہیا اور بیت لاہیا پروجیکٹ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بیماروں اور زخمیوں کو پیدل غزہ شہر کی طرف روانہ ہونا پڑا۔
اسرائیلی فوج کے توپ خانے نے شمالی غزہ کی پٹی میں العودہ ہسپتال کی تیسری منزل کو نشانہ بنایا جس سے اسے شدید نقصان پہنچا۔ جبالیا کیمپ میں واقع تل الزعتر کے علاقے پر آرمی ایوی ایشن نے حملہ کردیا۔ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع تل الھوا محلے کے جنوبی علاقے میں نئی بمباری کی کارروائیاں جاری رکھیں۔
فلسطینی وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ کمال عدوان ہسپتال کے صحنوں میں جاری بمباری کے نتیجے میں تقریباً 20 افراد زخمی ہوگئے۔ فلسطینیوں کی جانب سے غزہ کی پٹی میں صحت کے نظام اور ہسپتالوں کو اسرائیلی جارحیت سے بچانے کے لیے فوری بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
دریں اثنا مغربی کنارے میں پیر کی شام سے منگل کی صبح تک اسرائیلی فوج نے حملوں کی مہم جاری رکھی اور کم از کم 15 فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔ زیادہ تر فلسطینی علاقوں میں تصادم اور جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں میں متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے مغربی کنارے میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے حملوں یا آباد کاروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 803 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔