شام : عبوری حکومت کے عہدیداروں نے کیپٹاگون کی 10 لاکھ گولیاں جلا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کے نئی حکومتی عہدیداروں نے بدھ کے روز 'کیپٹاگون' نامی منشیات کی 10 لاکھ گولیاں جلا کر راکھ کر دی ہیں۔ منشیات کا یہ بڑا ذخیرہ صنعتی پیداوار کی سطح پر بشار الاسد رجیم نے محفوظ کر رکھا تھا۔

واضح رہے 'کیپٹاگون' ممنوعہ منشیات ہے۔ لیکن خانہ جنگی کے دوران 13 برسوں سے زیادہ عرصے تک بشار الاسد نے مملکت شام کو ایک منشیاتی ریاست کے طور پر چلانے کی کوشش کرتے ہوئے منشیات کی ایکسپورٹ کو آمدنی کا بڑا ذریعہ بنا لیا تھا۔

حکومتی عہدیداروں نے بتایا کہ ہم نے بڑی مقدار میں 'کیپٹاگون' کی گولیاں پکڑیں جو 10 لاکھ کی تعداد کے قریب تھیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے وابستہ صحافی نے دیکھا کہ حکومتی عہدیداروں نے تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ ان منشیات میں درد کے خاتمے کی گولیاں، ٹراموڈول اور 50 تھیلے گلابی و پیلی کیپٹاگون گولیوں کے تھے۔ جنہیں بشار الاسد کے زمانے کی فورسز کے ایک کمپاؤنڈ میں رکھا گیا تھا۔ یہ کمپاؤنڈ دمشق میں ہی واقع ہے۔

حالیہ برسوں میں کیپٹاگون شام سے دوسرے ملکوں میں سیلاب کی طرح جاتی رہی۔ تاہم نئی شامی رجیم کے سیکیورٹی اہلکاروں نے منیشات کے بڑے کمپاؤنڈ کا پتا چلا کر بدھ کے روز اسے تباہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی حکام نے شراب، ہیروین اور دوسری قسم کی منشیات کو بھی تباہ کیا ہے ۔ تاکہ شام اور اس کے شہریوں کو منشیات سے بچایا جا کسے۔

شامی حکام نے ان راستوں کو بھی بند کر دیا ہے جن کو بشار الاسد رجیم منشیات کی سمگلنگ کے لیے استعمال کرتی تھی۔

شام کی نئی حکومت نے شراب کے ملک میں استعمال سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ اسے جائز قرار دینا ہے یا ناجائز۔ اگرچہ شام میں اس سے پہلے شراب وسیع پیمانے پر ہر جگہ دستیاب رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں