العربیہ نیوز کے نمائندے کے مطابق شام کے علاقے منبج میں منگل کی شب سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اور ترکیہ کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کے بیچ انتباہی خاموشی چھائی رہی۔ اس سے قبل فریقین کے درمیان جھڑپوں کی شدت میں بھی کمی آئی تھی۔
العربیہ کے نمائندے نے واضح کیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران میں شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں گولہ بارود سے لدے ٹرکوں اور کارگو طیاروں کی آمد ہوئی ہے جن کو بعد ازاں بین الاقوامی اتحاد کے اڈوں کے علاقوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ امریکی فوج کوبانی کے علاقے میں فوجی اڈا بنانے پر غور کر رہی ہے۔
ادھر ایس ڈی ایف اور ترکیہ کے درمیان جنگ بندی آخر کار گذشتہ روز ٹوٹ گئی جب ترک فوج کی توپوں نے منبج کے علاقے میں تشرین ڈیم کے قریب ایس ڈی ایف کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔ یہ بات العربیہ نیوز کے نمائندے نے بتائی۔
رواں ماہ 8 دسمبر کو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد سے شام کے شمال میں لڑائی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکا نے علاقے میں ترکیہ اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے بیچ کمزور سی فائر بندی کے واسطے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔
کردوں کے زیر قیادت امریکا کی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ شمالی شام میں عین العرب (کوبانی) شہر میں ترکیہ اور اس کی حمایت یافتہ مسلح جماعتوں کے خلاف لڑے گی۔
شمالی شام میں 2016 سے 2019 کے درمیان ترکیہ کے تین وسیع فوجی آپریشن دیکھے گئے۔ ان بڑی کارروائیوں کا مقصد داعش تنظیم اور کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (تنظیم) کو ہدف بنانا تھا۔
ان آپریشنوں کے بعد سے انقرہ نے مذکورہ علاقوں میں اپنے فوجی تعینات کر دیے۔ ترکیہ میں حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر جلیک نے منگل کے روز بتایا کہ شمالی شام میں موجود ترک فوجیوں کی تعداد اندازا 16 سے 18 ہزار ہے۔
البتہ شام میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران میں صورت حال میں تیزی سے تبدیلی دیکھی گئی۔ شام کے تمام بڑے شہروں پر کنٹرول کے بعد مسلح اپوزیشن گروپوں نے دمشق کی جانب پیش قدمی کی اور بشار کی فوج کو انخلا پر مجبور کر دیا۔
اس کے نتیجے مین شام کی مساوات میں انقرہ کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے جب کہ ایران اور روس کے نفوذ میں کمی آئی ہے۔ ترکیہ کا دمشق میں نئے حکام سے مطالبہ ہے کہ انقرہ کے تصرف سے پہلے "کرد فورسز" کو تحلیل کر دیا جائے۔ یہ اس جانب عندیہ ہے کہ انقرہ جلد نیا حملہ کر سکتا ہے۔