متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت و کمیونٹی پروٹیکشن نے جنوری 2025 کے آغاز سے ملک بھر میں شادی کرنے والے تمام شہریوں کے لیے شادی سے قبل کے سکریننگ پروگرام کے اندر جینیاتی جانچ کے لازمی نفاذ کے آغاز کا اعلان کردیا۔ یہ اقدام امارات کی جنیوم کونسل کے فیصلے پر کیا گیا ہے۔
شادی سے پہلے کے ٹیسٹوں کے ایک حصے کے طور پر جینیاتی جانچ صحت کا ایک حفاظتی اقدام ہے جو شادی کرنے والے افراد کو جینیاتی ٹیسٹ کرانے کی اجازت دیتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ ایسے عام جینیاتی تغیرات رکھتے ہیں جو وہ مستقبل میں اپنی اولاد میں منتقل کر سکتے ہیں۔ اس ٹیسٹ کا مقصد بچوں کو موروثی بیماریوں سے بچانا ہے۔
وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فیصلہ نسلوں کی صحت کو بڑھاتا ہے۔ ملک میں صحت کے شعبے کو طبی عملے کی ترقی، جینیاتی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے تحقیقی صلاحیتوں کی تعمیر، تولیدی ادویات کے حل اور اس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے شعبے میں ایک ممتاز مسابقتی پوزیشن میں رکھتا ہے۔
ایمریٹس ہیلتھ نے وضاحت کی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے تعاون سے ایک قومی ٹیم کے اندر ایک مربوط انداز میں کام کر رہی ہے تاکہ شادی کے قریب آنے والوں کے لیے جینیاتی ٹیسٹنگ کو نافذ کیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس فیصلے پر عمل درآمد صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں معیاری تبدیلی لائے گا۔ اس اقدام سے ملک میں مستقبل کی ٹیکنالوجی کے استعمال سے پائیدار ترقی اور معیار زندگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ اقدام امارات کے صد سالہ ویژن 2071 کے اہداف کے مطابق ہے۔