اسرائیل کے صدر اضحاک ہرزوگ نے اسرائیلی قیادت پر یرغمالیوں کی رہائی کرانے میں مزید دیر نہ کرنے کے لیے جلد معاہدہ کر کے رہائی ممکن بنانے پر زور دیا ہے۔
صدر ہرزوگ نے بدھ کے روز یرغمالیوں کے معاملے پر حکومت کی توجہ دلاتے ہوئے کہا' قیادت اپنے اختیارات اور ذرائع کا استعمال کرے۔ تاکہ غزہ میں قید یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ ہو سکے۔'
انہوں نے کہا ' میں ملکی قیادت سے مظالبہ کرتا ہوں کہ اپنی تمام طاقت و اختیار اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ڈیل ممکن بنائے۔ خیال رہے اسرائیلی صدر کا کردار علامتی نوعیت کا ہے اور ان کے پاس انتظامی اختیار نہیں ہے نہ ہی وہ فیصلہ سازی میں کوئی اثر رکھتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے پیر کے روز قانون سازوں کو بتایا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدے کی سمت کچھ پیش رفت ہو رہی ہے۔ بعد ازاں بدھ کے روز خبر آئی کہ اسرائیلی مذاکراتی ٹیم مشاورت کی خاطر واپس اسرائیل پہنچ گئی ہے۔
نیتن یاہو نے اس موقع پر یہ بھی کہا ' یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے ہم جو کوششیں کر رہے ہیں وہ ساری منظر عام پر لانا ضروری نہیں۔ تاہم اس سلسلے میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ہم اس وقت تک اپنی کارروائیاں بھی جاری رکھیں گے جب تک یرغمالی واپس گھروں کو نہیں پہنچ جاتے۔'
نیتن یاہو نے یرغمالیوں کے اہل خانہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا 'ہم آپ کے پیاروں کے بارے میں کوشش کر رہے وہ ہمیں بھی بہت عزیز ہیں۔ اس لیے انہیں واپس گھروں کو لایا جائےگا۔'
ادھر حماس جس کی قید میں یرغمالی 14 ماہ سے زیادہ عرصے سے ہیں نے پہلے یہ کہا کہ معاہدے کے قریب ہیں لیکن بعد ازاں قرار دیا کہ اسرائیل کی نئی تجاویز آئی ہیں جو معاہدے میں مسائل پیدا کرنے کا سبب ہیں۔