شام میں ذرائع ابلاغ نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ حمص کے دیہی علاقے میں بلقسہ گاؤں میں مسلح اپوزیشن کی عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ اور بشار الاسد حکومت کی باقیات کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
حمص کے مغربی دیہی علاقے کی تطہیر کے دوران میں بشار حکومت کی باقیات پر مشتمل گروپوں نے اپوزیشن کی عسکری انتظامیہ کی فورس پر حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہو گئے۔
ادھر حماہ میں شامی وزارت داخلہ کی سیکورٹی فورس نے بتایا کہ اس نے صوبے میں بشار کی باقیات کے مرکزی مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔
دوسری جانب ترک ایوان صدارت میں سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کونسل کے رکن مسعود حقی نے العربیہ نیوز سے گفتگو میں زور دیا کہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو فوری طور پر ہتھیار رکھ دینے کی ضرورت ہے۔ حقی کے مطابق ایس ڈی ایف کو شام کا امن برقرار رکھنے کے لیے اپنے ہتھیار حوالے کر دینے چاہئیں اور یہ غیر ملکی جنگجوؤں کے لیے شام سے نکل جانے کا ایک بڑا موقع ہے۔
ترکیہ کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں آیا ہے جب شام میں منبج کے دیہی علاقے میں ایس ڈی ایف اور ترک نواز مسلح گروپوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ان کے نتیجے میں ابتدائی طور پر فریقین کے تقریبا 30 افراد ہلاک ہو گئے۔
العربیہ کے نمائندے کے مطابق شامی اپوزیشن کے مسلح گروپوں نے تشرین ڈیم اور قرہ قوزاق کے پل کے اطراف ایس ڈی ایف کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ اس دوران میں فریقین کے بیچ شدید جھڑپیں ہوئیں۔
اس موقع پر ایس ڈی ایف نے ڈرون طیاروں کا استعمال کیا جس سے اپوزیشن گروپوں کی کئی فوجی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جب کہ ترک فوج کی توپوں نے قرہ قوزاق اور تشرین ڈیم پر ایس ڈی ایف کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔
ترکیہ کے حمایت یافتہ مسلح گروپ ایس ڈی ایف کی جانب سے ہتھیار ڈال دینے کے سوا کوئی بات قبول کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم ایس ڈی ایف لڑائی اور مذاکرات میں بھی بنیادی فریق ہے۔
فائر بندی کے معاہدے میں جو چیز رکاوٹ بن رہی ہے اس میں ایس ڈی ایف کا شام کے فیصلے میں ترکیہ کی مداخلت مسترد کرنا بھی شامل ہے۔ انقرہ کا موقف ہے کہ کردوں کو جن میں "ایس ڈی ایف" شامل ہے، شام میں نئی حکومت میں عسکری اور سیاسی حیثیت سے شرکت سے دور رکھا جائے۔ یہ بات ذرائع نے العربیہ نیوز کو بتائی ہے۔
یاد رہے کہ ایس ڈی ایف اس وقت انقرہ کو شام کی عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ کے قریب شمار کرتی ہے جو انتظامیہ کے موقف پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ادھر عسکری انتظامیہ نے ابھی تک ایس ڈی ایف کے ساتھ کسی حقیقی بات چیت کا دروازہ نہیں کھولا ہے جس سے مستقبل کے شام میں ایس ڈی ایف کی شرکت کے خد و خال سامنے آ سکیں۔
البتہ ترکیہ نے ایس ڈی ایف کے علاحدگی پسند جماعت کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ جڑنے کے حوالے سے اندیشوں کا اظہار کیا ہے جب کہ ذرائع نے شمالی شام میں ورکرز پارٹی کے جنگجوؤں کے وجود کی تردید کی ہے۔ ساتھ ہی باور کرایا گیا ہے کہ ان کی تعداد درحقیقت 200 جنگجوؤں سے زیادہ نہیں ہے۔
-
خلیج تعاون کونسل : شام و لبنان کے استحکام کی حمایت
شام پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
Opinion -
ایران شامی عوام کو تقسیم کرنے اور بھڑکانے سے گریز کرے: عرب لیگ
عرب لیگ نے شام میں تقسیم پیدا کرنے سے متعق ایرانی بیان کو مسترد کیا ہے۔ عرب لیگ کی ...
مشرق وسطی -
اردن سے 18000 شامی پناہ گزین واپس شام لوٹ گئے: اردنی حکام
بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 18000 شامی پناہ گزیں اردن سے واپس شام ...
بين الاقوامى