ایران کے سکیورٹی چیف علی اکبر احمدیان نے کہا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کے خاتمے کے بعد اسرائیل سے لڑنے کے لیے ایک نیا گروپ ابھرے گا۔ انہوں نے یہ بات عمان کے وزیرِ خارجہ سے ایک ملاقات میں کہی۔
اِرنا نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی اعلیٰ ترین قومی سیکورٹی کونسل کے سکریٹری احمدیان نے کہا، "شامی علاقوں پر صیہونی حکومت کے قبضے کے بعد ایک نئی مزاحمت پیدا ہوئی ہے جو آئندہ سالوں میں خود کو ظاہر کرے گی"۔
الاسد کے زوال کے بعد اسرائیل نے شام میں فوجی تنصیبات پر سینکڑوں حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں نے شام اور اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے درمیان اقوامِ متحدہ کے گشت والے بفر زون میں فوجی اہمیت کی حامل پوزیشنوں پر بھی قبضہ کر لیا جو اس نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں چھین لی تھیں۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان 1974 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اس کے بعد سے ایران نے شام کی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کی مذمت کی ہے۔
غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ سمیت خطے میں تہران کے اتحادیوں کو غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے ساتھ تنازعات میں شدید دھچکا لگا ہے۔
اِرنا نے اطلاع دی کہ پیر کی ملاقات کے دوران احمدیان نے یہ مؤقف برقرار رکھا کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے خلاف اپنا جوہری نظریہ "تبدیل نہیں کیا"۔
گذشتہ ماہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دی گارڈین اخبار کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پابندیاں ہٹانے جیسے وعدوں کی عدم تکمیل پر مایوسی تہران میں اس بحث کو ہوا دے رہی ہے کہ آیا ملک کو اپنی جوہری پالیسی کو تبدیل کرنا چاہیے۔
ایران پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے حق پر اصرار کرتا ہے اور اس نے ہتھیاروں کی صلاحیت بڑھانے کے کسی بھی عزائم کی مسلسل تردید کی ہے۔