جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو پر اسرائیلی فوج کی بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے آج بدھ کی صبح اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے جنوبی لبنان میں اسلحہ ذخیرہ کرنے کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق مذکورہ مقام پر حزب اللہ عناصر کا پتا چلا تھا جو نزدیک ایک ٹرک میں اسلحہ منتقل کر رہے تھے جس کے بعد یہ حملہ کیا گیا۔ یہ بات اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" نے بتائی۔

ادھر اسرائیلی نشریاتی ادارے نے آج بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان میں مغربی پٹی سے انخلا کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت امریکی نگرانی کے ساتھ رابطہ کاری سے ہو گی۔ نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہر اسرائیلی بستی کے سامنے فوجی ٹھکانے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عبرانی زبان کے اخبار "ہیوم" نے اسرائیلی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فائر بندی کے بعد لبنان میں عسکری وجود میں توسیع ایک پالیسی فیصلہ ہے، اسرائیلی فوج لبنان میں تزویراتی ٹھکانے برقرار رکھنے کی خواہش مند ہے۔

دوسری جانب فرانس کے وزیر دفاع سیبستیان لوکورنو کا کہنا ہے کہ لبنان میں فائر بندی کے فوائد سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے لبنان میں فائر بندی کی سمت آدھا راستہ طے کر لیا ہے۔ اس کے نتائج آنکھوں کے سامنے واضح ہیں بالخصوص تنازعات کو ختم کرنے اور امن کی فراہمی سے متعلق امور، امریکی اور فرانسیسی نگراں کمیٹی کو 300 کے قریب شکایات موصول ہوئیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ نگرانی کا میکانزم پوری طرح اپنا مشن انجام دے رہا ہے"۔

لوکورنو فرانس کے وزیر خارجہ جان نویل بارو کے ساتھ لبنان کے دورے پر ہیں۔ دونوں وزراء نے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج "یونیفل" میں شریک فرانسیسی بریگیڈ کے ارکان سے ملاقات کی۔ بعد ازاں انھوں نے لبنانی فوج کے کمانڈر عماد جوزف عون سے بھی ملاقات کی۔
لبنان میں فائر بندی کے معاہدے کے مطابق 60 روز کی مہلت کے اندر جنوبی لبنان میں لبنانی فوج اور یونیفل کے فوجیوں کی تعیناتی اور اس کے ساتھ اسرائیلی فوج کا انخلا لازم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size