شام میں وکلا نے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے کے مطالبے کو آگے بڑھانے کے لیے آن لائن ایک اپیل کو وکلا برادری کے مؤثر مطالبہ بنانے کی مہم شروع کر دی ہے۔ وکلا کا یہ مطالبہ وکلا کی بار کونسلوں کے انتخابات سے متعلق ہے۔
وکلا کا یہ انتخابی مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب نئی عبوری حکومت نے بار ایسوسی ایشن کو چلانے کے لیے ایک انتظامی کمیٹی قائم کی ہے۔ تاکہ قانون و عدالت سے جڑے وکلا کے اس شعبے میں مسائل کو سمجھا اور انہیں دور کیا جا سکے۔
خیال رہے عبوری حکومت کا قیام 8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد حکومت کی برطرفی کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔ بشارالاسد کا خاندان تقریبا پچاس سال تک شام کا حکمران رہا ہے۔ تام اب وہ اقتدار سے الگ ہو چکا ہے۔
وکیل عبداللہ سید جنہوں نے وکلا کی اس دائرہ کردہ آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے ہیں نے 'اے ایف پی ' کو بتایا ہے کہ عبوری حکومت نے بار ایسوسی ایشن کا نظام چلانے کے لیے ایک کونسل قائم کی ہے ۔ مگر وکلا کمیونٹی کے مستقبل کی کیا صورت ہوگی اس بارے میں کچھ وضاحت نہیں ہے۔
اس آن لائن مہم کے لیے وکلا کی طرف سے لانچ کی گئی مہم کے بارے میں پٹیشن کی کاپی ' اے ایف پی ' نے بھی دیکھی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بشار رجیم کی برطرفی کے بعد نئی حکومت کے بھی بار ایسوسی ایشن کو ماتحت بن کر نہیں رہنا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ وہ عوامی زندگی میں اپنے صحیح کردار کا دوبارہ دعوی کرے اور اپنے اراکین کو افراد کے حقوق کا دفاع اور حفاظت کے لیے بااختیار بنائے، حتیٰ کہ طاقتور ترین حکام کے خلاف بھی اپنی جائز آواز بلند کرتی رہے۔
پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی کونسلوں کو انتخابی جواز سے محروم اور دوسری قسم کی باڈیز سے تبدیل نہیں کیا جانا چاہئے۔
کیونکہ یہ اپروچ نقطہ نظر آمریت کی ایک نئی شکل کو مسلط کرنے کا باعث بن جائے گا اور بار کے عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے بار کے کردار کو دبانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس نازک اور عبوری لمحے میں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ سنٹرل بار ایسوسی ایشن اور صوبوں میں اس کی شاخوں کے لیے بلا تاخیر آزادانہ اور آزاد انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔
پٹیشن پر دمشق، حمص اور حما کے علاقوں میں مقیم تقریباً دو درجن وکلاء نے دستخط کیے تھے۔ سید نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ اس کا مقصد بار ایسوسی ایشن کے تاریخی کردار اور اس کی آزادی کو بحال کرنا ہے۔ بار نے 1980 میں جس طرح ریاستی جبر کے خلاف ایک اہم کردار ادا کیا تھا اسی طرح آئندہ بھی وہ اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔