وائٹ ہاؤس کی جانب سے اپنے "ایکس" اکاؤنٹ پر جاری ایک وڈیو کلپ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کی ایک نقل پر دستخط کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ وڈیو کے ساتھ ایک تبصرہ منسلک کیا گیا جس میں کہا گیا "صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے شہر ورسائی میں ایران سے متعلق مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے"۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے ایسی تصاویر شائع کیں جن میں صدر مسعود پزشکیان کو امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
🚨 President Donald J. Trump has SIGNED the Iran Memorandum of Understanding at Versailles in France. 🇺🇸 pic.twitter.com/JQ6qlbvFAF
— The White House (@WhiteHouse) June 17, 2026
ایران نے جمعرات کو تصدیق کی کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف ڈین اسکاوینو نے "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ٹرمپ نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دستاویز موصول کرنے کے فوراً بعد "ایرانی مفاہمت کی یاد داشت" پر دستخط کر دیے۔
اسکاوینو نے لکھا "فرانس کے شہر ورسائی میں آج شام کے عشائیے سے قبل، جس کی میزبانی صدر ایمانوئل ماکروں نے کی... صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر روبیو کے دستاویز موصول کرنے کے فوراً بعد مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے۔"
وڈیو میں ٹرمپ کو ایک میز پر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ان کے ساتھ ماکروں، روبیو اور متعدد امریکی اور فرانسیسی حکام موجود ہیں جبکہ وہ دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں۔
روبیو نے کلپ کے دوران کہا "تاریخ کا ایک انتہائی اہم لمحہ جو ہم ایک ساتھ شیئر کر رہے ہیں"، جبکہ ماکروں نے کہا "اچھا اور عظیم کام"۔
سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے (ارنا) نے دو تصاویر بھی شائع کیں۔ پہلی صدر مسعود پزشکیان کے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کرنے کے لمحے کی... اور دوسری ان کی جس میں وہ اپنے دستخط کو اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے ساتھ دکھانے کے لیے اسے اٹھائے ہوئے ہیں۔
ایرانی ایجنسی نے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے کہا "اسلام آباد مفاہمت کی یاد داشت کے متن کی تیاری دونوں صدور کے دستخط کے ساتھ مکمل ہو گئی ہے۔ اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ کو آزمایا جائے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری تقریب کا انعقاد ایران کے منصوبوں میں "واقعی شامل نہیں تھا۔"
صور لتوقيع ترمب على مذكرة التفاهم مع إيران pic.twitter.com/1Itkg3zDsX
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) June 18, 2026
علاوہ ازیں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ فریقین کے دستخط کے بعد فوری طور پر نافذ ہو گیا ہے، اگرچہ سرکاری دستخطی تقریب اب بھی کل جمعہ کے لیے طے شدہ ہے۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کل سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوں گے۔
سوئس حکومت نے ابتدائی طور پر اعلان کیا تھا کہ دستخطی تقریب جمعہ کو جھیل لوسرن کے اوپر واقع بورگین اسٹاک پہاڑ پر ایک پُر تعیش ہوٹل میں منعقد ہو گی۔
ایران نے اطلاع دی تھی کہ دستاویز پر اس کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس دستخط کریں گے۔
بقائی نے کہا "جب دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین حکام متن پر دستخط کرتے ہیں، تو عدم تعمیل کے نتائج قدرتی طور پر زیادہ سنگین ہوتے ہیں، ہمارے گذشتہ تجربات کو دیکھتے ہوئے ہم نے اس نقطہ نظر کو ترجیح دی۔"
بدھ کے روز دونوں فریقوں کی طرف سے ظاہر کی گئی مفاہمت کی یاد داشت میں یہ طے پایا ہے کہ امریکہ اس پر دستخط ہوتے ہی ایرانی تیل کی فروخت پر اپنی پابندیاں معطل کر دے گا۔ پھر 60 دن کے مذاکراتی دور کے اختتام پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں اپنی تمام پابندیاں اٹھا لے گا۔
اس کے بدلے میں ایران کو 30 دنوں کے اندر تزویراتی آبنائے ہرمز میں سمندری نقل و حمل کو مکمل طور پر بحال کرنے کی اجازت دینا ہو گی، کیونکہ وہاں جاری بندش عالمی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
معاہدے میں ایرانی جوہری پروگرام پر بات چیت اور ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک فنڈ کے قیام کا بھی ذکر ہے۔